• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • این آئی ٹی کروکشیتر میں طلبہ کی اموات پر ہنگامہ، انتظامیہ اور اساتذہ پر سنگین الزامات

این آئی ٹی کروکشیتر میں طلبہ کی اموات پر ہنگامہ، انتظامیہ اور اساتذہ پر سنگین الزامات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Apr 17, 2026 IST

این آئی ٹی کروکشیتر میں طلبہ کی اموات پر ہنگامہ، انتظامیہ اور اساتذہ پر سنگین الزامات
پچھلے دو مہینوں کے دوران ایک ہی تعلیمی ادارے میں چار طلبہ اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ یہ تمام طلبہ این آئی ٹی کروکشیتر کے تھے، جن کے نام پون کمار، انگوج شیوا، پریانشو ورما اور دکشا دوبے ہیں۔ ان کیس نے نہ صرف کیمپس بلکہ پورے ملک میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔
 
سب سے حالیہ واقعہ 16 اپریل کو پیش آیا، جب بہار سے تعلق رکھنے والی دوسرے سال کی طالبہ دکشا دوبے نے ہاسٹل کے کمرے میں اپنی جان لے لی۔ ساتھی طلبہ کے مطابق، جب دکشا نے کافی دیر تک فون کا جواب نہیں دیا تو دوست اس کے کمرے تک پہنچے۔ دروازہ بند تھا اور کافی دیر انتظار کے باوجود نہیں کھلا۔ جب جالی سے اندر جھانکا گیا تو دکشا بے حرکت پڑی تھی۔
 
طلبہ کا الزام ہے کہ جب ڈاکٹر کو بلایا گیا تو انہوں نے کمرے میں داخل ہو کر معائنہ کرنے کے بجائے کھڑکی سے جھانک کر ہی دکشا کو مردہ قرار دے دیا۔ حیران کن بات یہ بتائی جا رہی ہے کہ اس کی لاش تقریباً تین گھنٹے تک کمرے میں اسی حالت میں پڑی رہی اور کسی نے فوری کارروائی نہیں کی۔ آخرکار طلبہ کو خود ہی دروازہ توڑ کر لاش باہر نکالنی پڑی۔
 
اس واقعے کے بعد کیمپس میں شدید احتجاج شروع ہو گیا۔ طلبہ نے رات بھر دھرنا دیا اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف طبی سہولیات ناکافی ہیں بلکہ اساتذہ کا رویہ بھی غیر ذمہ دارانہ اور بعض اوقات توہین آمیز ہے۔
 
کچھ طلبہ نے یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ ایک پروفیسر نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر کوئی اپنی جان لینا چاہتا ہے تو وہ کیمپس کے باہر جا کر کرے۔ اس بیان نے طلبہ میں غم و غصہ مزید بڑھا دیا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ایسے الفاظ کسی بھی حساس طالب علم کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
 
مزید یہ کہ کچھ طلبہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں شکایات کرنے پر دھمکیاں دی جاتی ہیں اور ان کے تعلیمی مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کی بات کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ اپنی مشکلات کے بارے میں بات کرتے ہیں تو انہیں “ذہنی طور پر کمزور” قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
 
طلبہ نے کیمپس کی طبی سہولیات پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق ہسپتال رات کے وقت بند رہتا ہے اور اتوار کو بھی مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں۔ ایسے حالات میں ایمرجنسی کی صورت میں فوری مدد ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔
 
طلبہ کے اہم مطالبات میں کیمپس میں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ اور طلبہ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا، اور ان مسلسل اموات کی مکمل اور شفاف تحقیقات شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف رسمی اقدامات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ سنجیدہ اور عملی قدم اٹھانے ہوں گے۔
 
فی الحال دکشا دوبے کے اس انتہائی قدم کی اصل وجہ واضح نہیں ہو سکی اور تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم، یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت اور حفاظت کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
 
آخر میں یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ اپنی جان لینا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اگر آپ یا آپ کے اردگرد کوئی شخص ذہنی دباؤ کا شکار ہے تو فوری مدد حاصل کریں، اپنے دوستوں، اہل خانہ یا کسی ماہر سے بات کریں۔ زندگی قیمتی ہے اور ہر مسئلے کا حل ممکن ہے۔