• News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • بھارت اور نیپال کےدرمیان سفر اور تجارت مزید آسان

بھارت اور نیپال کےدرمیان سفر اور تجارت مزید آسان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 26, 2026 IST

بھارت اور نیپال کےدرمیان سفر اور تجارت  مزید آسان
 
نیپال نے تقریباً 10سال بعد بھارتی 200 اور 500 روپے کے نئے نوٹ ملک میں لانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان سیاحت، تجارت اور سرحد پار سفر مزید آسان ہونے کی توقع ہے۔
 

نیپال نے کیا فیصلہ کیا؟

نیپال راشٹرا بینک (NRB) نے اعلان کیا ہے کہ بھارتی اور نیپالی شہری 9 نومبر 2016 یا اس کے بعد جاری کیے گئے 200 اور 500 روپے کے بھارتی نوٹ اپنے ساتھ نیپال لا اور لے جا سکتے ہیں۔ ایک شخص زیادہ سے زیادہ 25 ہزار بھارتی روپے تک اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے۔
 

پہلے کیا پابندی تھی؟

بھارت میں 8 نومبر 2016 کو نوٹ بندی کے بعد نیپال نے 100 روپے سے زیادہ مالیت کے بھارتی نوٹوں کے استعمال اور داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ اس دوران مسافر 25 ہزار بھارتی روپے تک ساتھ رکھ سکتے تھے، لیکن صرف 100 روپے یا اس سے کم مالیت کے نوٹ ہی قابلِ قبول تھے۔
 

اب کون سے نوٹ قابلِ قبول ہوں گے؟

قوانین کے مطابق: 9 نومبر 2016 کے بعد جاری ہونے والے 200 اور 500 روپے کے نوٹ نیپال میں لائے جا سکتے ہیں۔ ایک شخص اب بھی زیادہ سے زیادہ 25 ہزار بھارتی روپے ہی ساتھ رکھ سکتا ہے۔9 نومبر 2016 سے پہلے کے 500 روپے اور 1000 روپے کے نوٹ اب بھی نیپال میں ممنوع ہیں۔
 

مرکزی بینک نے کیا وضاحت دی؟

نیپال راشٹرا بینک نے بتایا کہ یہ تبدیلی پہلے ہی 11 فروری کو نیپال میں شائع کی جا چکی تھی، بینک کے ترجمان گرو پرساد پوڈیل نے کہا کہ نیپالی شہری بھارت کے علاوہ کسی دوسرے ملک سے بھارتی کرنسی نیپال نہیں لا سکتے، اور نہ ہی نیپال سے بھارتی کرنسی کسی تیسرے ملک لے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے نیپال آنے والے بھارتی سیاحوں اور بھارت کے ساتھ تجارت کرنے والے نیپالی شہریوں کو فائدہ ہوگا۔
 

غیر ملکی کرنسی سے متعلق قواعد

نیپال راشٹرا بینک کے مطابق: نیپالی شہری اور غیر ملکی مسافر 5,000 امریکی ڈالر یا غیر ملکی کرنسی بغیر کسٹم ڈیکلریشن کے نیپال لا سکتے ہیں۔ اگر رقم 5,000 امریکی ڈالر سے زیادہ ہو تو آمد پر کسٹم حکام کو اس کی اطلاع دینا ضروری ہوگا۔
 

یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟

بھارت اور نیپال کے درمیان کھلی سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سیاحت اور عوامی روابط بہت مضبوط ہیں۔ بھارت، نیپال کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ ہزاروں نیپالی شہری بھارت میں رہتے، تعلیم حاصل کرتے، ملازمت کرتے اور کاروبار بھی کرتے ہیں۔ اسی لیے توقع کی جا رہی ہے کہ اس فیصلے سے سفر، تجارت اور سرحد پار مالی لین دین پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہو جائے گا۔