امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے فوراً بعد مرکزی حکومت نے ملک میں ایل پی جی کی قلت سے نمٹنے کے لیے ایک اہم پالیسی فیصلہ لیا ہے۔ حکومت نے گیس کی محدود دستیابی کے پیش نظر اس کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں، جس سے صنعتی شعبے کو جزوی ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت فارماسیوٹیکل، فوڈ پروسیسنگ، اسٹیل، پولیمر، زراعت، پیکیجنگ، پینٹس، سیرامکس، شیشہ سازی اور دیگر کئی صنعتوں کو ایل پی جی کی بلک سپلائی جاری رکھی جائے گی۔ تاہم، ان صنعتوں کو مارچ 2026 سے پہلے کی ان کی کھپت کے صرف 70 فیصد تک ہی ایل پی جی فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد محدود وسائل کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔
حکومت نے ریاستوں کے لیے بھی گیس مختص کرنے کا نیا فارمولہ تیار کیا ہے۔ اس کے مطابق پہلے سے دستیاب پیکڈ درآمدی ایل پی جی کا 70 فیصد ریاستوں کو دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 10 فیصد اضافی کوٹہ ان ریاستوں کے لیے رکھا گیا ہے جو پائپڈ نیچرل گیس (PNG) کے انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے اصلاحات نافذ کریں گی۔ اس طرح حکومت صاف توانائی کے استعمال کو بھی فروغ دینا چاہتی ہے۔
ایل پی جی کی یومیہ سپلائی کے لیے 0.2 ہزار میٹرک ٹن کی مجموعی حد مقرر کی گئی ہے۔ ترجیح ان صنعتوں کو دی جائے گی جہاں قدرتی گیس کو ایل پی جی کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا ممکن نہیں ہے۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جن صنعتوں کے لیے ایل پی جی ناگزیر ہے، انہیں PNG کنکشن کے لیے درخواست دینے کی شرط سے استثنیٰ دیا جائے گا۔
مزید برآں، تمام صنعتوں کو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ رجسٹریشن کروانا ہوگا اور جہاں ممکن ہو، سٹی گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذریعے PNG کنکشن کے لیے درخواست دینی ہوگی۔
مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ 'قدرتی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم آرڈر 2026' کو فوری طور پر متعلقہ محکموں تک پہنچائیں، PNG اصلاحات کے نفاذ کو تیز کریں، اور کمپریسڈ بائیو گیس (CBG) سے متعلق اپنی پالیسیوں کو جلد از جلد نافذ کریں۔
ماہرین کے مطابق، یہ اقدامات نہ صرف موجودہ ایل پی جی بحران سے نمٹنے میں مدد دیں گے بلکہ طویل مدتی بنیادوں پر توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔