ملک کے تعلیمی نظام سے متعلق سرکاری اعداد و شمار نے ایک تشویشناک صورتحال کو اجاگر کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ایک لاکھ سے زائد اسکول ایسے ہیں جہاں تدریسی ذمہ داریاں صرف ایک ہی استاد انجام دے رہا ہے۔ ان اسکولوں میں سرکاری، سرکاری امداد یافتہ اور نجی تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کئی علاقوں میں اساتذہ کی شدید کمی برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق آندھرا پردیش اس معاملے میں سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں میں شامل ہے، جہاں 16 ہزار سے زائد اسکول صرف ایک استاد کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اسکولوں میں ایک ہی استاد کو مختلف جماعتوں اور مختلف مضامین کی تدریس کی ذمہ داری نبھانا پڑتی ہے، جس سے تدریس کے معیار اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب وزارتِ تعلیم کا مؤقف ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر طالب علم اور استاد کا تناسب (Student-Teacher Ratio) قومی تعلیمی پالیسی کے مقررہ معیار کے مطابق ہے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق پرائمری سطح پر یہ تناسب 19:1، اپر پرائمری میں 17:1، ثانوی سطح پر 15:1 اور اعلیٰ ثانوی سطح پر 23:1 ہے، جو قومی معیار کے اندر شمار کیے جاتے ہیں۔
تاہم تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی اوسط کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لینا زمینی حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق بعض ریاستوں اور دیہی و دور دراز علاقوں میں اساتذہ کی شدید قلت موجود ہے، جس کے باعث ہزاروں اسکول صرف ایک استاد کے سہارے چل رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک استاد کو انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ متعدد جماعتوں کو بیک وقت پڑھانا پڑتا ہے، جس سے تعلیمی معیار متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
تعلیمی ماہرین کا بیان
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ واحد استاد والے اسکولوں کی بڑی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک میں اساتذہ کی تقسیم یکساں نہیں ہے۔ اگرچہ مجموعی اعداد و شمار تسلی بخش دکھائی دیتے ہیں، لیکن مقامی سطح پر اساتذہ کی دستیابی میں نمایاں عدم توازن موجود ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی شعبے سے وابستہ ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خالی آسامیوں کو جلد از جلد پُر کیا جائے، خصوصاً دیہی اور پسماندہ علاقوں میں اساتذہ کی تقرری کو ترجیح دی جائے، تاکہ ہر طالب علم کو معیاری تعلیم اور مناسب تدریسی ماحول میسر آ سکے۔