ٓل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم ) کے صدر بیرسٹر اسد اویسی نے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے مدرسوں سے متعلق بیان پر سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ موریہ کے بیانات ان کے علم کی کمی کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ اویسی نے کہا کہ نہ تو موریہ اور نہ ہی ان کے پیشرووں نے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا تھا۔
1857 کی جنگ آزادی پر اویسی کا بیان
اویسی نے کہا کہ 1857 کی جنگ آزادی سے پہلے اور اس کے دوران کئی مدارس نے انگریزوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور برطانوی راج کے خلاف جہاد کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کیشو پرساد موریہ اور سنگھ پریوار کی سوچ میں ہے۔ صدر مجلس کے مطابق سنگھ پریوار کا کوئی فرد جدوجہد آزادی میں شہید نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کیشو پرساد موریہ کو تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ اگر وہ خود نہیں پڑھ سکتے تو انھیں کسی صاحب علم سے اس کے بارے میں سیکھنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے، وہ حقیقت کو پا سکیں گے۔
کیشو پرساد موریہ کے بیان کی مذمت
اویسی نے کہا کہ وہ کیشو پرساد موریہ کے بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ مدارس کے تئیں اتنا غصہ اور مخالفت کیوں ہے؟ ان کے مطابق، ایسے بیانات رام مندر کے لیے چندے کی مبینہ چوری سے توجہ ہٹانے کے لیے دیے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے ایسے بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بیانات دئیے جا رہے ہیں۔
مدرسوں نے بے شمار مجاہدین آزادی دیئے
اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کو مخاطب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا:"کیشو پرساد موریہ صرف مدارس پر ہی حملہ کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کی کرسی درحقیقت ایک اسٹول ہے۔ جن لوگوں کو انگریزوں سے محبت ہو، وہ مدارس کو کیسے پسند کر سکتے ہیں؟ مدارس انگریزوں کے خلاف سازشوں اور تحریکِ آزادی کے مراکز تھے۔ انہی مدارس نے بے شمار مجاہدینِ آزادی پیدا کیے، جبکہ ساورکر انگریزوں کو رحم کی درخواستیں (Mercy Petitions) لکھ رہے تھے۔"
صدر جمہوریہ ہند راجندر پرساد نے مدرسے سے تعلیم پائی
اویسی نے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والی ممتاز ہندوستانی شخصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، "ہندوستان کے پہلے صدر راجندر پرساد نے مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی۔ منشی پریم چند اور راجہ رام موہن رائے نے بھی مدرسوں میں تعلیم حاصل کی تھی۔ آئین کا آرٹیکل 30 ہر اقلیتی برادری کو اپنا ادارہ چلانے کا حق دیتا ہے۔"
جدوجہد آزادی میں مدرسوں کا اہم رول
انہوں نے 1866 میں قائم ہونے والے دارالعلوم دیوبند جیسے اسلامی مدارس اور مدارس کے نیٹ ورکس کے تاریخی کردار کا حوالہ دیا، خلافت ایجی ٹیشن اور وسیع تر آزادی کی جدوجہد جیسی تحریکوں کے ذریعے برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے خلاف ان کی فعال مخالفت کو نوٹ کیا۔
آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد گوڈسے
اویسی نے یاد کیا کہ راجیندر پرساد نے اپنی سوانح عمری میں ذکر کیا ہے کہ ان کی ابتدائی تعلیم میں ایک مقامی مکتب میں جانا شامل تھا جہاں انہوں نے "مولوی صاحب" کے تحت فارسی سیکھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 19ویں صدی کے دیہی ہندوستان میں، بہت سے بچوں نے فارسی، اردو، یا عربی کی تعلیم مقامی ٹیوٹرز کے تحت یا روایتی کمیونٹی اسکولوں میں، جنہیں عام طور پر مدرسوں یا مکتبوں کے نام سے جانا جاتا ہے، میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔، اویسی نے کہا، "آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد، گوڈسے ہے ، اور وہ مدرسہ کا طالب علم نہیں تھا۔"
آئینی عہدے کا وقار مجروح
انہوں نے ایک آئینی عہدے پر فائز شخصیت کی جانب سے سخت اور جارحانہ زبان استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا:"یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ ایک آئینی عہدے پر بیٹھا شخص اس قدر زہریلی زبان استعمال کرے۔ لیکن جب کرسیوں کی کمی ہو تو جن لوگوں کے پاس صرف اسٹول رہ جاتا ہے، وہ اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے زہر اگلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
کیشو پرساد موریہ نے کیا کہا
یہ بات منگل کو اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے تبصروں کے بعد ہوا، جس میں انہوں نے مدرسہ کی تعلیم کو عالمی دہشت گردی سے جوڑا تھا۔ موریا نے نامہ نگاروں سے کہا، "یہ ایک حقیقت ہے، یہ سچ ہے کہ مدرسہ کی تعلیم یقینی طور پر۔۔۔ تمام بڑے دہشت گرد، چاہے وہ ہندوستان کے اندر ہوں، یا وہ جنہوں نے حملے کیے، یا وہ جنہوں نے دنیا بھر میں حملے کیے،یہ مدرسہ کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔"