وزارتِ خارجہ کے سکریٹری برائے مغربی امور سِبی جارج نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان کا دورہ کریں گے۔ اس کے بعد وزیر اعظم 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں قیام کریں گے۔ سِبی جارج کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی ازبکستان کے صدر کی دعوت پر اس دورے پر روانہ ہوں گے۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا اور دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور ہوگا۔
ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے دوطرفہ اور کثیر جہتی سطح پر قریبی روابط اور بامعنی مذاکرات جاری ہیں۔ دونوں ممالک نے سال 2011 میں اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک پہنچایا تھا، جس کے بعد دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، سلامتی، ثقافت اور دیگر کئی شعبوں میں تعاون کو فروغ ملا۔ وزارتِ خارجہ کے سکریٹری نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان قریبی، کثیر جہتی اور مسلسل مضبوط ہوتی اسٹریٹجک شراکت داری کا اعادہ کرے گا۔ ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک باہمی مفاد کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔
دورے کا ایک اہم مقصد دوطرفہ تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی ہوگا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ رابطہ کاری، توانائی، سلامتی اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی گفتگو کی جائے گی۔ ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات بھی کافی گہرے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پرانے تہذیبی اور ثقافتی روابط کو اس دورے کے دوران خصوصی اہمیت دیے جانے کی توقع ہے۔
ازبکستان کے دورے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں رہیں گے۔ اس دورے کے دوران بھی وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رہنے کی توقع ہے۔ وزیر اعظم مودی کا یہ دو ملکی دورہ ہندوستان کی وسطی ایشیا کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔