Saturday, April 11, 2026 | 22 شوال 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، امریکہ، ایران مذاکرات سے قبل خطے میں کشیدگی میں اضافہ

اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، امریکہ، ایران مذاکرات سے قبل خطے میں کشیدگی میں اضافہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Apr 10, 2026 IST

اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، امریکہ، ایران مذاکرات سے قبل خطے میں کشیدگی میں اضافہ
پاکستان نے دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات سخت کر دیے ہیں کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ یہ اہم سفارتی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
 
پاکستان جمعہ کے روز ان اہم مذاکرات کی میزبانی کرنے جا رہا ہے، جن کا مقصد حالیہ دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بدھ کو ہونے والے معاہدے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
 
تاہم، مذاکرات سے چند گھنٹے قبل ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملے اس عمل کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ حملے ابتدائی جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں۔
 
دوسری جانب لبنان کی صورتحال بھی تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ لبنانی کابینہ نے جمعرات کو سیکیورٹی فورسز کو ہدایت دی ہے کہ بیروت میں اسلحے کو مکمل طور پر ریاستی کنٹرول میں رکھا جائے۔ یہ فیصلہ اسرائیل کی جانب سے وسطی بیروت سمیت مختلف علاقوں پر حالیہ حملوں کے بعد کیا گیا۔
 
لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے کہا ہے کہ فوج اور سیکیورٹی اداروں کو فوری طور پر بیروت میں ریاستی عملداری مضبوط بنانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی اسلحے کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم اس اقدام کو حکومت میں شامل حزب اللہ کے وزراء کی جانب سے مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
 
یاد رہے کہ مارچ کے اوائل میں حکومت نے حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی عائد کی تھی، لیکن ایران کے حمایت یافتہ اس گروپ نے اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
 
اسرائیل نے حالیہ دنوں میں حملوں کی شدت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، اور 2 مارچ سے شروع ہونے والے تنازعے کے بعد یہ سب سے بڑی کارروائی سمجھی جا رہی ہے۔ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق صرف ایک ماہ میں 1,700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ حالیہ حملوں میں 200 سے زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
 
تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم زمینی حقائق اور بڑھتی ہوئی کشیدگی اس عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔