Wednesday, August 19, 2026 | 04 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • وندے ماترم پر سیاسی گھمسان، عمر عبداللہ نے دیا اہم بیان

وندے ماترم پر سیاسی گھمسان، عمر عبداللہ نے دیا اہم بیان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 19, 2026 IST

وندے ماترم پر سیاسی گھمسان، عمر عبداللہ نے دیا اہم بیان
ملک میں قومی گیت ’وندے ماترم‘ سے متعلق جاری سیاسی بحث اور تنازع کے درمیان جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ چونکہ سرکاری تقریبات اور پروگاموں میں ’وندے ماترم‘ کو اسی سال شامل کیا گیا ہے، اس لیے لوگوں اور انتظامیہ کو اس نئی روایت کے مطابق ڈھلنے اور اس کی عادت ڈالنے میں کچھ وقت لگے گا۔
 
عمر عبداللہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا:
 
’’ہم خود بھی اس ایڈجسٹمنٹ کو سمجھ رہے ہیں۔ یہ میری بطور وزیر اعلیٰ آٹھویں یومِ آزادی کی پریڈ تھی، لیکن یہ پہلا موقع تھا جب اس تقریب میں ’وندے ماترم‘ کو شامل کیا گیا۔ مجھے بھی اس ترتیب کو سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ پہلے احتراماً کھڑے ہونا ہے، ’وندے ماترم‘ بجایا جائے گا، پھر پرچم کشائی ہوگی اور اس کے بعد قومی ترانہ گایا جائے گا۔ چونکہ یہ شروعات ہے، اس لیے لوگوں کو بھی اس کا عادی ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔‘‘
 
 
کانگریس تنازع اور ’وندے ماترم‘ 
 
کانگریس کے یومِ آزادی کے پروگرام کے دوران ’وندے ماترم‘ کی گائیکی پر اٹھنے والے سوالات اور بی جے پی کی تنقید پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس معاملے کو بلاوجہ کا تنازع نہیں بنانا چاہیے۔  
 
انہوں نے بتایا کہ کانگریس نے اس سلسلے میں وضاحت جاری کی ہے کہ ویڈیو ریکارڈنگ کے مطابق قومی گیت کی تینوں Verses (stanzas) مکمل گائی گئی تھیں۔ عمر عبداللہ کے مطابق، جب گیت کی تمام Verses گائی گئی ہیں تو پھر اس پر تنازع کھڑا کرنے کا کوئی معقول جواز باقی نہیں رہتا۔
 
 
سیاسی کشمکش اور پس منظر 
 
 خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بی جے پی اور اپوزیشن جماعتوں بالخصوص کانگریس کے درمیان ’وندے ماترم‘ گانے کے طریقے اور اس کے مکمل یا منتخب حصے گائے جانے پر شدید سیاسی نوک جھونک جاری ہے۔ بی جے پی کا موقف ہے کہ قومی گیت کا پورا احترام کرتے ہوئے اسے درست انداز میں پیش کیا جانا چاہیے، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں اور تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ 1937ء سے چلی آ رہی تاریخی روایت کے تحت مخصوص ابتدائی Verses ہی قومی اور پارٹی جلسوں میں گائی جاتی رہی ہیں۔ایک طرف جہاں دہلی میں کانگریسی قیادت کے خلاف شکایت درج کروانے جیسے سیاسی اقدامات دیکھے گئے، وہیں دوسری جانب کانگریس کا کہنا ہے کہ سیاسی فائدے کے لیے قومی علامات کو تنازعات کا شکار نہیں بنایا جانا چاہیے۔
 
 
ایک متوازن زاویہ 
 
عمر عبداللہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب سرکاری تقریبات میں نئی روایات کے نفاذ کو لے کر عوامی اور سیاسی سطح پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ عمر عبداللہ کے اس موقف کو ایک مثبت اور عملی نقطہ نظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے جذباتی اور سیاسی الزام تراشی کے بجائے انتظامی تبدیلیوں کو سمجھنے اور وقت دینے پر زور دیا ہے۔