ترنمول کانگریس ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی اور کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا کے درمیان جمعرات کو پارلیمنٹ کے مکر دوار کے باہر ایک دلچسپ سیاسی گفتگو ہوئی، جس میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی کا ذکر بھی سامنے آیا- یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب کلیان بنرجی ٹی ایم سی کے ان ارکان پارلیمنٹ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جنہوں نے پارٹی چھوڑ کر نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں شمولیت اختیار کی تھی۔ کلیان بنرجی نے احتجاج کے دوران ٹی ایم سی کے ان 20 رہنماؤں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جو پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ انہوں نے انہیں "غدار" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اب پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں۔
اس پر پرینکا گاندھی نے مسکراتے ہوئے طنزیہ انداز میں جواب دیا کہ کچھ لوگوں نے پہلے کانگریس چھوڑ کر ٹی ایم سی میں شمولیت اختیار کی اور پھر بی جے پی میں چلے گئے۔ کلیان بنرجی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں کانگریس کی سیاسی طاقت کم ہو چکی تھی، اسی لیے کچھ لوگ ٹی ایم سی میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کانگریس سے ٹی ایم سی میں شامل ہوئے، وہ کبھی کانگریس کے نشان پر پارلیمنٹ نہیں پہنچے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ خود ماضی میں یوتھ کانگریس کے نائب صدر رہ چکے ہیں۔
اس دوران آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو بھی گفتگو میں شامل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ لوگ صرف کانگریسی تھے، جس پر کلیان بنرجی نے جواب دیا کہ ہم بھی کبھی کانگریسی تھے۔ گفتگو کے دوران کلیان بنرجی نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کانگریس نے ممتا بنرجی کو آگے بڑھنے سے نہ روکا ہوتا تو آج کانگریس کی سیاسی صورتحال مختلف ہوتی۔ پرینکا گاندھی نے اس کے جواب میں کہا کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ممتا بنرجی کو بہت عزت اور محبت دی تھی۔
کلیان بنرجی نے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ بعد میں سیاسی حالات بدل گئے۔ ان کے مطابق کانگریس نے ایک وقت میں مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) یعنی سی پی ایم کے ساتھ اتحاد کیا، جبکہ ٹی ایم سی ہمیشہ سی پی ایم کے خلاف رہی۔ یہ بحث ان سیاسی حالات کی طرف اشارہ کر رہی تھی جن کے بعد ممتا بنرجی نے کانگریس سے الگ ہو کر 1998 میں ترنمول کانگریس قائم کی تھی۔ کلیان بنرجی کو 22 جولائی کو لوک سبھا کے باقی مانسون سیشن کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ یہ کاروائی ایوان میں این سی پی آئی کے اراکین کے ساتھ تلخ بحث کے بعد کی گئی تھی، جس میں ان پر خواتین اراکین کے خلاف غیر مناسب زبان استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔