• News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں کشیدگی بڑھ گئی، مظاہرے جاری،انٹرنیٹ سرویس بھی معطل

پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں کشیدگی بڑھ گئی، مظاہرے جاری،انٹرنیٹ سرویس بھی معطل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 30, 2026 IST

پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں کشیدگی بڑھ گئی، مظاہرے جاری،انٹرنیٹ سرویس بھی معطل
 پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیرپی او کے میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، مظاہرین شہباز شریف حکومت اور پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 30 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کاروائی کے بعد کئی لاشیں لاپتہ ہیں، جبکہ پورے خطے میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔  ان تمام دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
 
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے مظاہرین کو "دشمن" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ بعد میں  وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی حکومت کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو پاکستان نے پروان چڑھایا، وہی اب ریاست کو چیلنج کر رہے ہیں، اس لیے ضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ احتجاج جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی قیادت میں کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کی مختلف سماجی اور سیاسی تنظیمیں شامل ہے۔
 
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق، احتجاج کی ایک بڑی وجہ خطے کی 12 متنازع نشستیں ہیں، جن کے بارے میں تنظیم کا الزام ہے کہ پاکستان اپنی پسند کی حکومت بنانے کے لیے ان میں مداخلت کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ مظاہرین بڑھتی ہوئی مہنگائی، انتظامی بے توجہی، سیاسی امتیاز اور اقلیتوں کے حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عوام کو معاشی ریلیف دیا جائے، سیاسی احتساب یقینی بنایا جائے اور زیادہ جمہوری حقوق فراہم کیے جائیں۔ دوسری جانب بھارت کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں جاری احتجاج خطے میں معاشی استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی دباؤ کا بھی نتیجہ ہے۔
 
وزارت خارجہ نے وہاں ہونے والے بلدیاتی انتخابات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان انتخابات کے ذریعے اپنے قبضے کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت اس سے پہلے اقوام متحدہ میں بھی پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کا معاملہ اٹھا چکا ہے۔
 
ادھر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے بھی خطے کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر اٹھایا جائے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ علاقے کا دورہ کرے، وہاں کے حالات کا جائزہ لے اور متاثرہ لوگوں کے مسائل کے حل میں مدد کرے۔