Wednesday, August 19, 2026 | 04 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • پٹنہ میں آر جے ڈی کا راج بھون مارچ: تیجسوی یادو حراست میں، کارکنان کی پولیس وین پر چڑھ کر نعرے بازی

پٹنہ میں آر جے ڈی کا راج بھون مارچ: تیجسوی یادو حراست میں، کارکنان کی پولیس وین پر چڑھ کر نعرے بازی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 19, 2026 IST

پٹنہ میں آر جے ڈی کا راج بھون مارچ: تیجسوی یادو حراست میں، کارکنان کی پولیس وین پر چڑھ کر نعرے بازی
بہار میں نیٹ پیپر لیک معاملے اور سیوان میں مظاہرین پر پولیس کے ذریعے AK-47 رائفل کے استعمال کے خلاف راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کا احتجاج انتہائی شدت اختیار کر گیا ہے۔ پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان (جے پی گولمبر) سے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کی قیادت میں شروع ہونے والے ’راج بھون مارچ‘ کے دوران پولیس اور آر جے ڈی کارکنوں کے درمیان شدید تصادم اور ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔
 
تیجسوی یادو کی حراست اور ہنگامہ
 
انکم ٹیکس چوراہے کے قریب پولیس نے مارچ کو آگے بڑھنے سے روکتے ہوئے واٹر کینن کا استعمال کیا اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو سمیت کئی سینئر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ تیجسوی یادو کی حراست کے فوراً بعد ماحول شدید کشیدہ ہو گیا اور آر جے ڈی کارکنان اس پولیس وین اور بسوں کی چھتوں پر چڑھ گئے جس میں تیجسوی یادو موجود تھے۔ کارکنوں نے بی جے پی دفتر کے باہر اور راج بھون کے راستے پر حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔  
 
AK-47 اور پیپر لیک کے معاملے پر شدید اشتعال
 
پولیس وین سے بیان دیتے ہوئے تیجسوی یادو نے حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا:  ’’حکومت طلبہ کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل رہی ہے۔ امتحانات کے پیپر بار بار لیک ہو رہے ہیں اور جب طلبہ اپنے حق اور شفافیت کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو ان پر سیوان میں AK-47 جیسے ہتھیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم جیل سے نہیں ڈرتے اور طلبہ و نوجوانوں کے حقوق کے لیے ہماری یہ جنگ جاری رہے گی۔ آر جے ڈی ایم پی میسا بھارتی اور منوج جھا نے بھی اس مارچ میں شرکت کی اور حکومت پر طلبا کے مستقبل سے کھیلنے کا الزام لگایا۔
 
پولیس کا واٹر کینن اور سخت سیکیورٹی
 
احتجاج کو قابو میں کرنے کے لیے انتظامیہ نے شہر میں بھاری سیکیورٹی فورس تعینات کر رکھی تھی۔ پولیس نے واٹر کینن (پانی کی بچھار) کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو راج بھون اور لوک بھون کی طرف بڑھنے سے روکا۔ اس کے باوجود آر جے ڈی کے کارکنان پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے اور انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کی ضمانت نہیں ملتی، تب تک یہ تحریک جاری رہے گی۔