راہول گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو ایک خط لکھ کر 20 جولائی کو دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کاروائی پر جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔ 25 جولائی کو لکھے گئے اس خط میں انہوں نے الزام لگایا کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کیا گیا، اس لیے بتایا جائے کہ اس کاروائی کی ہدایت کس نے دی۔
راہول گاندھی نے کیا کہا؟
راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے خط کو شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ "طلبہ کو مارنے کی ہدایت کس نے دی؟انہوں نے اپنے خط میں احتجاج کے دوران مظاہرین پر مبینہ طور پر، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی۔
طلبہ پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام
خط میں راہول گاندھی نے کہا کہ طلبہ ایک شفاف اور جوابدہ تعلیمی نظام کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن ان کے مطابق پولیس نے ان کے خلاف اندھا دھند طاقت استعمال کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران آنسو گیس، واٹر کینن، لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی طلبہ شدید زخمی ہوئے۔ کانگریس رہنما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ طالبات کے ساتھ بھی بدسلوکی کی گئی اور کریک ڈاؤن کے دوران بعض کو جان بوجھ کر نامناسب انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق جمہوری ملک میں پرامن احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ایسا رویہ قابلِ قبول نہیں۔
19 سالہ طالب علم کا بھی ذکر
راہول گاندھی نے میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران کئی طلبہ زخمی ہوئے۔ انہوں نے خاص طور پر 19 سالہ طالب علم ساحل لوچاب کا ذکر کیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ شدید زخمی ہے اور مبینہ طور پر پیلٹ گن لگنے کے باعث اس کی ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے پولیس کی کاروائی اور طاقت کے استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امیت شاہ سے دو سوالات
راہول گاندھی نے اپنے خط میں وزیر داخلہ امیت شاہ سے دو اہم سوالوں کے جواب مانگے: طلبہ کے خلاف پیلٹ گن سمیت مبینہ طور پرطاقت کااستعمال کی منظوری کس نے دی؟ سادہ کپڑوں میں موجود ان افراد کو کس کے ہدایت پر تعینات کیا گیا جو مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کے ساتھ طلبہ کو مارتے ہوئے نظر آئے؟ کیا وہ پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟
پرامن احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے: راہول گاندھی
راہول گاندھی نے اپنے خط میں کہا کہ پرامن احتجاج جمہوریت کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظاہرین کی حفاظت کرے اور ان کے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔ ان کے مطابق مبینہ طور پر طاقت کے استعمال سے نہ صرف طلبہ زخمی ہوئے بلکہ نوجوانوں میں غصہ بھی بڑھا ہے۔ انہوں نے خط کے آخر میں لکھا کہ "ہمارے ملک کا مستقبل جواب اور احتساب کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان کی آواز ضرور سنی جائے گی۔ ساتھ ہی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ مبینہ حملے کے ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔ یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کاروائی پر سیاسی بحث جاری ہے اور کانگریس مظاہرین کے خلاف مبینہ طاقت کے استعمال کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔