• News
  • »
  • قومی
  • »
  • طلبہ پر پولیس کارروائی: راہل گاندھی نے وزارتِ داخلہ سے مانگا جواب

طلبہ پر پولیس کارروائی: راہل گاندھی نے وزارتِ داخلہ سے مانگا جواب

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 05, 2026 IST

طلبہ پر پولیس کارروائی: راہل گاندھی نے وزارتِ داخلہ سے مانگا جواب
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر مرکزی وزارت داخلہ کو نشانہ بناتے ہوئے جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔ نئی دہلی میں 10 جن پتھ پر منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے مختلف ریاستوں سے آئے احتجاجی طلبہ اور کارکنوں کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کی۔ اس موقع پر ممبئی کی سماجی کارکن ریا آہیر، نوتن ٹوپو اور فرح ناز بھی موجود تھیں۔
 
راہول گاندھی نے کہا کہ انہوں نے مختلف ریاستوں سے آئے نوجوان مظاہرین سے ملاقات کی اور ان کی بات سنی۔ انہوں نے ہزاروں طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق احتجاج کے دوران مظاہرین نے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا، اس کے باوجود انہیں مبینہ طور پر دھمکیوں، لاٹھی چارج اور سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ راہول گاندھی نے کہا، مجھے آپ سب پر فخر ہے۔ آپ نے کچھ غلط نہیں کیا، اس لیے آپ کو کسی سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ جب کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی ہو تو اس کے حق میں آواز اٹھانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ راہول گاندھی نے 15 سالہ ایک لڑکی کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسے معافی مانگنے پر مجبور کرنا مناسب نہیں تھا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی مکمل آزادی ہے۔  جبکہ حکومت کو بھی عوام اور میڈیا کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔
 
پریس کانفرنس کے دوران ممبئی کی کارکن ریا آہیر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے احتجاج کے دوران 20 بچوں کو مبینہ غیر قانونی حراست سے بچانے کی کوشش کی، جس کے بعد انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف نازیبا اور جھوٹے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ریا آہیر کے مطابق انہوں نے 27 جولائی کو اس سلسلے میں شکایت درج کرائی، تاہم اب تک انہیں ایف آئی آر کی نقل فراہم نہیں کی گئی۔
 
ایک اور مظاہرین نوتن ٹوپو نے الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران ان پر پیلٹ گن استعمال کی گئی، جس سے وہ زخمی ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھیں کہ نشانہ مظاہرین کی جانب تھا، اور پیچھے ہٹنے کے باوجود انہیں گولی لگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ بھی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتی رہیں گی۔
 
فرح ناز نے بھی پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ 20 جولائی کو جنتر منتر پر ہونے والا احتجاج پرامن تھا، لیکن اس کے باوجود پولیس نے مظاہرین پر مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کیا۔ ان کے مطابق انہیں زخمی کرنے کے بعد کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا اور قانونی کارروائی کرنے کی صورت میں نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ فرح ناز نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے ساتھ ان کے مذہبی نام کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا گیا۔