• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • پیپر لیک پر سیاست گرم، جھارکھنڈ تحریک کو جے ڈی (یو) اور کھیساری لال یادو کی حمایت

پیپر لیک پر سیاست گرم، جھارکھنڈ تحریک کو جے ڈی (یو) اور کھیساری لال یادو کی حمایت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 05, 2026 IST

پیپر لیک پر سیاست گرم، جھارکھنڈ تحریک کو جے ڈی (یو) اور کھیساری لال یادو کی حمایت
دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کا احتجاج ختم ہونے کے بعد اب جھارکھنڈ میں سرکاری بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کی تحریک زور پکڑ رہی ہے۔ رانچی میں طلبہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (JPSC) اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (JSSC) کے ذریعے منعقدہ بھرتی امتحانات میں مبینہ پیپر لیک، بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی دوران بہار کی حکمراں جماعت جنتا دل (یونائیٹڈ) کی جانب سے بھی اس معاملے پر ردعمل سامنے آیا ہے۔
 
بدھ (5 اگست 2026) کو بہار حکومت میں جے ڈی (یو) کوٹے سے وزیر دامودر راوت نے کہا کہ پیپر لیک صرف کسی ایک ریاست کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے نیا قانون نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت پیپر لیک میں ملوث گروہوں اور افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
 
دوسری طرف بھوجپوری فلموں کے معروف اداکار اور گلوکار کھیساری لال یادو نے بھی جھارکھنڈ کے طلبہ کی حمایت میں آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ جھارکھنڈ کی سڑکوں پر ہونے والا احتجاج صرف ایک مظاہرہ نہیں بلکہ ان نوجوانوں کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی آواز ہے جنہوں نے محنت کی مگر انہیں انصاف نہیں ملا۔ کھیساری لال یادو نے کہا، جب محنت شکست کھا جائے اور ناانصافی جیت جائے تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا معاشرہ ہار جاتا ہے۔ اب یہ معاملہ صرف روزگار یا امتحانات کا نہیں بلکہ انصاف اور انسانی حقوق کا بھی ہے۔
 
دوسری جانب رانچی میں احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ جھارکھنڈ اسمبلی کے مانسون اجلاس سے قبل پانچ طلبہ، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں، نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ مظاہرین جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی ریفارمز منچ کے بینر تلے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں دھرنا دے رہے ہیں۔ ان کی شمولیت کے بعد بھوک ہڑتال کرنے والوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
 
اسی مقام پر جھارکھنڈ لوک تانترک کرانتی کاری مورچہ کے رہنما دیویندر ناتھ مہتو بھی مسلسل چوتھے روز دھرنے پر بیٹھے رہے۔ گزشتہ دس روز سے دونوں تنظیمیں 14ویں جے پی ایس سی امتحان کو منسوخ کرنے، امتحانی عمل کی شفاف تحقیقات کرانے اور جے ایس ایس سی میں جامع اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا، احتجاج اور بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے ابھی تک ان مطالبات پر کوئی باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا، جس کے باعث جھارکھنڈ میں طلبہ تحریک مزید شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔