میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ عالمی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر یہ کاروائی پیر تک مکمل کی جا سکتی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اسرائیل کو اس منصوبے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور وہ اس حوالے سے امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی حتمی منظوری نہیں دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران ممکنہ فوجی کاروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہم انہیں بہت سخت ماریں گے، اور ایک وقت آئے گا جب وہ کہیں گے کہ اب ہم مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایران کی جانب سے مغربی ایشیا میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے اردن کی سمت بیلسٹک میزائل حملہ کیا گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ پینٹاگون اس حملے کا بھرپور جواب دے گا۔
امریکی صدر کے مطابق امریکی افواج نے امریکی تنصیبات کی جانب آنے والے بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے روک لیا۔ انہوں نے کہا کہ ردعمل کے لیے وقت بہت کم تھا، لیکن امریکی فوج نے فوری کاروائی کرتے ہوئے دفاعی آپریشن انجام دیا۔
دوسری جانب اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اردن میں امریکی فوجی اڈے اور سینٹرل کمانڈ کی تنصیب پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ یہ کاروائی امریکہ کے جارحانہ اقدامات کے جواب میں کی گئی۔ تنظیم نے کہا کہ جب تک ایران کے خلاف دھمکیاں اور امریکی افواج کی جانب سے اس کے مفادات کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں گی، مزاحمت بھی جاری رہے گی۔
ادھر رپورٹس کے مطابق امریکہ عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے خلاف بھی کاروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل ایران ملیشیاؤں کے خلاف امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ملیشیائیں دنیا کے لیے ایک کینسر ہیں۔