تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے الزام لگایا ہے کہ مرکزی حکومت نے 'سیاسی وجوہات' کی بنا پر ان کے دورہ امریکہ کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کانگریس پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کا اِس مشکل وقت میں بھرپور ساتھ دینے کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ ریونت ریڈی نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا۔ ریونت ریڈی کے امریکہ دورے کی منسوخی پر ریاست میں سیاست بیان بازی تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس نے بی جےپی اور مرکز پر تنقید کی ہے۔ بی آر ایس نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔ادھر مرکزی وزیر کشن ریڈی نے کہاکہ اس معاملے پر بی جےپی یا مرکزکا کوئی تعلق نہیں۔ وزارت خارجہ کےترجمان جیسوال نے اس معاملے پر وضاحت کی ہے۔
لندن کے پروگرامزمکمل،امریکہ کی اجازت نہیں
ریونت ریڈی نے کہا کہ لندن میں وہ جو سرکاری میٹنگز اور پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گئے ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ مرکزی وزارت خارجہ نے ان کے دورہ امریکہ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، اس لیے وہ اپنا دورہ ختم کر دیں گے اور ابتدائی منصوبہ بندی کے مطابق بوسٹن جانے کے بغیر ہی حیدرآباد واپس جائیں گے۔ ریونت نے اپنی پوسٹ میں کہا، "میں لندن میں پچھلے تین دنوں سے ملنے والی حمایت سے بہت خوش ہوں۔ میں پارٹی، قائدین اور ملک بھر کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس معاملے میں میرا ساتھ دیا ہے۔ میں حیدرآباد واپس آنے کے بعد تمام متعلقہ مسائل پر بات کروں گا"۔
مرکز کے رویہ پرصدرکانگریس ملکارجن کھرگے برہم
قبل ازیں کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے دورہ امریکہ کی اجازت نہ دینے پر مرکز پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے جان بوجھ کر وزرائے اعلیٰ کے دوروں کو روکنا غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے مرکز پر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا رویہ درست نہیں اور وہ ریونت ریڈی کے دورے کی اجازت روکنے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔
ملک کے مفادات کو نقصان
"مرکز کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ اپنی پسند کے لوگوں کو اجازت دے اور دوسروں کو اجازت دینے سے انکار کرے۔ امریکہ میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے این آر آئیز کی بڑی تعداد موجود ہے۔ وزرائے اعلیٰ انہیں اپنی ریاستوں میں صنعتیں لگانے اور سرمایہ کاری لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان دوروں سے پیدا ہونے والی سرمایہ کاری نہ صرف ریاست کے لیے بہت فائدہ مند ہو گی، بلکہ مرکز کے اس دورے سے ملک کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو گا۔ ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانا،" کھرگے نے تبصرہ کیا۔ چونکہ ریونت ریڈی لندن سے سیدھے حیدرآباد آ رہے ہیں، اس لیے ان کی واپسی کے بعد وہ اس تنازعہ کا کیا جواب دیں گے یہ ریاستی سیاست میں ایک دلچسپ موضوع بن گیا ہے۔ یہ واقعہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ایک اور سیاسی تصادم کا باعث بنا۔
سیاسی سازش کا نتیجہ : ڈپٹی سی ایم
تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ،اے ریونت ریڈی کے مجوزہ دورۂ امریکہ کو مرکزی حکومت نے منظوری دینے سے انکار کردیا ۔مرکز کےمبینہ فیصلے پر تلنگانہ کے ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ ہند کی جانب سے وزیراعلیٰ کو امریکہ جانے کی اجازت نہ دینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور یہ فیصلہ سیاسی طور پر درست نہیں ہے۔بتایا گیا ہے کہ ریونت ریڈی امریکہ میں معروف یونیورسٹیوں کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کرنے والے تھے۔ ریونت چاہتے ہیں کہ عالمی معیار کے تعلیمی اداروں کے کیمپس تلنگانہ میں قائم ہوں ۔اس کے امکانات تلاش کرنے کی غرض سے وہ امریکہ جارہے تھے۔
ریاست کے وقار اور خوداری پرحملہ۔ بی آر ایس
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے دورہ امریکہ کی منظوری نہ ملنے پر بی آر ایس ایم ایل سی ڈی شراون کمار نے اپنے تاثرات ظاہر کئے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو امریکہ جانے کی اجازت نہ دینا ریاست کے وقار اور خودداری پر حملہ ہے۔شراون کمار نے کہا کہ وزارت خارجہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو بتائیں کہ وزیر اعلی کے دورہ کو نامناسب قرار دینے کی اصل وجہ کیا ہے ۔
انڈین اوورسیز کانگریس کا اعتراض
ریونت ریڈی کےدورہ امریکہ منسوخ ہونے پرانڈین اوورسیز کانگریس (آئی او سی) کی امریکی شاخ نے مرکز کے اس فیصلے پر سخت اعتراض کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ مرکزی حکومت کے دوہرے موقف کا مظہر ہے۔آئی او سی کی امریکن برانچ نے مرکز کے اس فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ مرکز نے، پہلے گجرات کے وزیر اعلیٰ کو امریکہ کے دورے کی اجازت دی تھی۔ لیکن تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ امتیازی سلوک ایک سیاسی انتقامی اقدام ہے۔ انھوں نے مشورہ دیا ہے کہ ترقی، تعلیم اور اختراع سے متعلق مسائل کو سیاسی نقطہ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ فیصلہ تلنگانہ میں سرمایہ کاری اور تعلیمی شراکت میں رکاوٹ بنے گا۔ دریں اثناء چیف منسٹر کے دورہ کی منسوخی کے باوجود ریاستی عہدیداروں کی ایک ٹیم پہلے سے طے شدہ پروگراموں میں شرکت کے لئے امریکہ جائے گی۔
بی جےپی یا مرکز کا کوئی تعلق نہیں
مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے کہا کہ کسی بھی وزیر اعلی یا وزیر کے بیرون ملک دورہ سے بی جے پی یا مرکزی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ وزارت خارجہ کی ایک ٹیم سبھی اُمور طئے کرتی ہے ۔ حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ کشن ریڈی نے کہا کہ وزارت خارجہ جن لوگوں کو کلیرنس دیتا ہے وہی بیرون ممالک دورہ پر جاتا ہے ۔ اس پر سیاست نہیں ہونا چاہئے ۔
وزارت خارجہ کی وضاحت
وزارت خارجہ (MEA) نے جمعہ کو وضاحت کی کہ اس نے تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے مجوزہ دورہ امریکہ کی اجازت کیوں نہیں دی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ امریکی دورے کے لیے سیاسی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا کیونکہ یہ محسوس کیا گیا کہ یہ پروگرام وزیر اعلیٰ کے موقف اور دورے کے مقصد کے مطابق نہیں تھا۔
جیسوال نے کہا کہ وزارت وزرائے اعلیٰ اور دیگر معززین کے غیر ملکی دوروں کی سیاسی اجازت دینے سے پہلے ان کے پروگراموں کا جائزہ لیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پروگرام کو دورے کی متعلقہ پوزیشن اور مقصد کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی کے دورہ امریکہ کے معاملے میں پروگرام اس معیار پر پورا نہیں اترتا تھا، اس لیے سیاسی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اجازت صرف برطانیہ کے دورے کے لیے دی گئی تھی۔
پروگرام کےمطابق ریونت ریڈی 30 اگست کو حیدرآباد پہنچنا تھا۔ تاہم چونکہ مرکز نے امریکہ کے دورے کی اجازت نہیں دی تھی اس لئے وہ اس سے قبل حیدرآباد پہنچ جائیں گے۔ تلنگانہ کے سی ایم او نے انکشاف کیا کہ وہ امریکہ کے دورے کے دوران 'تلنگانہ رائزنگ' کے ایک وفد کے ساتھ سرمایہ کاروں سے ملاقات کرنے والے تھے۔ کہا گیا کہ دورہ منسوخ کرنا پڑا کیونکہ سیاسی وجوہات کی بنا پر اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔