سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے امریکہ کے خلیجی اتحادیوں سے وعدہ کیا کہ واشنگٹن ان کے مفادات کا تحفظ کرے گا، کیونکہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کا حتمی حل نکالنا چاہتا ہے۔
روبیو خلیجی ریاستوں کو یقین دلانے کے لیے علاقائی دورے پر تھے۔ واضح رہےکہ ایران۔ امریکہ اسرائیل کشیدگی کےدوران علاقہ میں تنازع کے دوران تہران کے میزائلوں اور ڈرونز نے نشانہ بنایا تھا اور انھوں نے آبنائے ہرمز کی ایرانی ناکہ بندی ،جس کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی۔
ادھر ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے باوجود اس کا حوصلہ بلند ہے۔ اس نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور امریکہ کے ساتھ ہونے والے ابتدائی معاہدے کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔
روبیو نے کہا کہ ایران کے معاملے پر امریکہ اور خلیجی ممالک مل کر فیصلے کریں گے اور ایک دوسرے سے مشاورت جاری رکھیں گے۔امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی معاہدے میں 60 دن کی بات چیت کا منصوبہ تو بنایا گیا، لیکن اس سے ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے حمایت گروپوں سے متعلق خلیجی ممالک کے خدشات دور نہیں ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ "ہم خلیج میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مکمل طور پر منسلک ہونے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم کل ان سب سے ملاقات کر رہے ہیں،" انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ "ان کو اس بات چیت کے حوالے سے کیے گئے ہر فیصلے کے بارے میں بات چیت میں شامل کرے گا"۔
روبیو نے کہا کہ ایران کے معاملے پر امریکہ اور خلیجی ممالک مل کر فیصلے کریں گے اور ایک دوسرے سے مشاورت جاری رکھیں گے۔لیکن روبیو نے اصرار کیا کہ واشنگٹن "کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے ہمارے اتحادیوں کی سلامتی کو نقصان پہنچے"۔
تاہم تہران پہلے ہی اس معاہدے کو اپنی کامیابی کی نظر سے دیکھ چکا ہے ۔اس کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر غالب نے بدھ کو کہا کہ پاکستانی ثالثی کی مدد سے طے پانے والا یہ معاہدہ "بہادر ایرانی قوم کی مزاحمت اور اختیار کا نتیجہ ہے"۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی سے ہونے والا یہ معاہدہ ایران کی کامیابی اور امریکہ کی ناکامی کی علامت بن گیا ہے۔
روبیو اور پاکستان دونوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں پہلے دور کے بعد آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔