• News
  • »
  • قومی
  • »
  • بغیر انشورنس گاڑیوں پر سپریم کورٹ سخت، نئے منصوبے کی ہدایت

بغیر انشورنس گاڑیوں پر سپریم کورٹ سخت، نئے منصوبے کی ہدایت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 05, 2026 IST

بغیر انشورنس گاڑیوں پر سپریم کورٹ سخت، نئے منصوبے کی ہدایت
 
سپریم کورٹ نے سڑکوں پر بغیر تھرڈ پارٹی انشورنس چلنے والی گاڑیوں کے مسئلے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے مرکز کو ایک پائلٹ پروجیکٹ تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مستقبل میں ایسی گاڑیوں کو پٹرول پمپس پر ایندھن نہ دینے کا نظام بنایا جائے گا جن کے پاس درست تھرڈ پارٹی انشورنس موجود نہیں ہوگی۔

سڑک حادثات اور ٹول پلازوں کی بھیڑ پر عدالت کی تشویش

منگل کو جسٹس سنجے کرول اور جسٹس پرشانت کمار مشرا پر مشتمل بینچ نے سڑک حادثات اور ٹول پلازوں پر لمبی قطاروں پر تشویش ظاہر کی۔عدالت نے مرکز کو ہدایت دی کہ منتخب قومی شاہراہوں پر آزمائشی منصوبے شروع کیے جائیں، جن میں روایتی ٹول پلازوں کی جگہ آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن ٹیکنالوجی استعمال کی جائے، تاکہ گاڑیاں بغیر رکے ٹول پوائنٹس سے گزر سکیں۔

بغیر انشورنس گاڑیوں کے لیے نیا منصوبہ

عدالت نے کہا کہ ملک میں لازمی تھرڈ پارٹی انشورنس کی پابندی کمزور ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی 2024-25 کی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں تقریباً 56 فیصد گاڑیاں بغیر انشورنس چل رہی ہیں۔ اسی لیے عدالت نے انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا اور سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کی وزارت "MoRTH" کو ایسا پائلٹ پروجیکٹ تیار کرنے کی ہدایت دی ہے، جس میں گاڑی کو ایندھن دینے سے پہلے اس کی انشورنس کی تصدیق کی جائے۔ اس تجویز کے مطابق اگر کسی گاڑی کی تھرڈ پارٹی انشورنس ختم ہو چکی ہو تو پٹرول پمپ پر اسے ایندھن نہ دیا جائے، جب تک انشورنس کی تجدید نہ ہو جائے۔

آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن کیمرے کریں گے شناخت

عدالت نے کہا کہ اس نظام میں آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن کیمرے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جن کے ذریعے بغیر انشورنس یا غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کی شناخت ممکن ہوگی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کو اصولی طور پر اس تجویز پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

نئی گاڑیوں کی انشورنس مدت بڑھانے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اپنی 2018 کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت نئی کاروں کے لیے تین سال اور نئے دو پہیہ گاڑیوں کے لیے پانچ سال کی تھرڈ پارٹی انشورنس لازمی تھی، لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں گاڑیاں اب بھی بغیر انشورنس چل رہی ہیں۔ اب عدالت نے سڑکوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی کاروں کے لیے لازمی تھرڈ پارٹی انشورنس کی مدت چار سال اور نئے دو پہیہ گاڑیوں کے لیے چھ سال کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سلسلے میں انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا کو فوری ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔

لاکھوں غیر بیمہ گاڑیوں پر عدالت کی تشویش

عدالت نے بتایا کہ ملک میں رجسٹرڈ 30.48 کروڑ گاڑیوں میں سے تقریباً 16.54 کروڑ گاڑیاں بغیر انشورنس ہیں۔ بینچ نے کہا کہ موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت لازمی انشورنس کا مقصد صرف متاثرین کو معاوضہ دینا نہیں بلکہ انہیں طویل قانونی کاروائی سے بھی بچانا ہے۔ عدالت کے مطابق جب کوئی بغیر انشورنس گاڑی حادثے کا شکار بنتی ہے تو متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو معاوضہ حاصل کرنے کے لیے طویل قانونی لڑائی لڑنی پڑتی ہے، خاص طور پر موت یا مستقل معذوری کے معاملات میں یہ بوجھ زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

کیمروں سے نگرانی اور ای چالان جاری ہوں گے

عدالت نےانشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا  اور "MoRTH" کو ہدایت دی کہ منتخب ریاستوں میں ایسے آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن کیمرے نصب کیے جائیں، جو انشورنس انفارمیشن بیورو اور "VAHAN" ڈیٹا بیس سے منسلک ہوں۔ ان کیمروں کے ذریعے بغیر انشورنس گاڑیوں کی خودکار شناخت کی جائے گی اور ان کے خلاف ای چالان جاری کیے جائیں گے۔

پولیس کو جدید نظام سے جوڑا جائے گا

عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس وقت پولیس کے پاس انشورنس کی فوری جانچ کا نظام موجود نہیں ہے۔ اس لیے ریاستی پولیس کو ایسے ہینڈ ہیلڈ آلات یا موبائل ایپس فراہم کی جائیں جو انشورنس انفارمیشن بیورو اور "VAHAN" پورٹل سے منسلک ہوں، تاکہ گاڑیوں کی انشورنس کی فوری تصدیق کی جا سکے اور قانون پر مؤثر عمل درآمد ہو۔

گاڑی مالکان کو مختلف انشورنس آپشنز دینے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ نجی گاڑی مالکان کے لیے مختلف انشورنس پالیسی آپشنز فراہم کرے۔ ان میں موٹر وہیکل ایکٹ کے مطابق بنیادی تھرڈ پارٹی انشورنس کے ساتھ اضافی کوریج، ذاتی حادثاتی بیمہ اور گاڑی کے نقصان کی کوریج جیسے اختیارات بھی شامل ہوں۔ یہ تمام ہدایات موٹر حادثات کے معاوضے سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جاری کی گئیں، جہاں عدالت نے کہا کہ موجودہ قانون کے باوجود تھرڈ پارٹی انشورنس کی پابندی اب بھی ناکافی ہے، جس کی وجہ سے حادثات کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو بروقت معاوضہ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔