Saturday, May 09, 2026 | 21 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • فائبرائڈز کے جدید علاج اور خواتین کی صحت پر خصوصی گفتگو

فائبرائڈز کے جدید علاج اور خواتین کی صحت پر خصوصی گفتگو

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 08, 2026 IST

فائبرائڈز کے جدید علاج اور خواتین کی صحت پر خصوصی گفتگو
 
منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام 'ہیلتھ اور ہم' میں آج خواتین میں عام طور پر پائی جانے والی بیماری Uterine Fibroids پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر ماہر امراضِ نسواں 'ڈاکٹر سواتھی ایچ وی ' نے فائبرائڈز کی وجوہات، علامات، تشخیص اور علاج کے جدید طریقوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔
 
مکمل جانکاری کے لیے ویڈیو دیکھیں:
 

ڈاکٹر سواتھی ایچ وی کے مطابق فائبرائڈز رحم (Uterus) میں بننے والی غیر سرطانی گلٹیاں ہوتی ہیں، جو زیادہ تر خواتین میں تولیدی عمر کے دوران دیکھی جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ عام طور پر کینسر میں تبدیل نہیں ہوتیں، لیکن بعض اوقات ان کی وجہ سے شدید جسمانی اور ذہنی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہارمونز، خاص طور پر ایسٹروجن اور پروجیسٹرون، فائبرائڈز کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
 
پروگرام میں بتایا گیا کہ فائبرائڈز کی علامات ہر خاتون میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ بعض خواتین میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، جبکہ کئی خواتین کو ماہواری میں زیادہ خون آنا، پیٹ کے نچلے حصے میں درد، بار بار پیشاب آنا، کمر درد اور حمل میں دشواری جیسی شکایات ہوتی ہیں۔ بعض صورتوں میں فائبرائڈز بانجھ پن یا حمل کے دوران پیچیدگیوں کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
 
ڈاکٹر سواتھی نے کہا کہ فائبرائڈز کی تشخیص کے لیے Ultrasound سب سے عام طریقہ ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر MRI اور دیگر ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین کو اپنی صحت سے متعلق علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور بروقت معائنہ کروانا چاہیے۔
 
علاج کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ فائبرائڈز کا علاج مریضہ کی عمر، علامات اور فائبرائڈز کے سائز پر منحصر ہوتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں ادویات کے ذریعے علامات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جبکہ پیچیدہ صورتوں میں Surgery یا Minimally Invasive Procedures اختیار کیے جاتے ہیں۔ جدید طبی سہولیات کے باعث اب کئی خواتین بغیر بڑی سرجری کے بھی علاج حاصل کر سکتی ہیں۔
 
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر سواتھی ایچ وی نے خواتین کو متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور وقتاً فوقتاً طبی معائنہ کروانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ آگاہی اور بروقت علاج کے ذریعے فائبرائڈز سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے اور خواتین صحت مند زندگی گزار سکتی ہیں۔