نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ (27 مئی) کو ووٹر لسٹوں کی تصدیق اور نظرثانی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کی جانب سے شروع کیے گئے 'خصوصی گہرے نظرثانی' یعنی ایس آئی آر کے عمل میں کوئی قانونی یا آئینی خامامی نہیں ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جویمالیا باگچی کی بنچ نے بدھ کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا،الیکشن کمیشن نے اس عمل میں اپنے آئینی اختیارات کا درست استعمال کیا ہے، وہ اپنے دائرہ اختیار سے باہر نہیں گیا۔ اس لیے پوری ایس آئی آر (SIR) کی مہم کو غیر آئینی یا غیر قانونی قرار دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
بہار میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا:
عدالتِ عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے خاص طور پر ریاست بہار میں نافذ کیے گئے 'ایس آئی آر' (SIR) کے فیصلے کو مکمل طور پر برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ صرف اس بنیاد پر اس خصوصی مہم کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ووٹر لسٹوں کی عام اور روایتی نظرثانی کے مروجہ طریقے سے مختلف ہے۔ سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کو ایک جائز، قانونی اور آئینی طور پر معتبر طریقہ کار قرار دیا ہے۔
ووٹر لسٹ سے نام خارج کرنے کو ضابطے کے خلاف نہیں کہہ سکتے: عدالت
درخواست گزاروں کی جانب سے دی گئی اس دلیل کو کہ "اس عمل کے ذریعے ووٹرز پر خود کو سچا ثابت کرنے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے"، عدالت نے سرے سے مسترد کر دیا۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے:
ایس آئی آر کے دوران الیکشن کمیشن نے جو بھی اقدامات کیے، وہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے وقت کی ضرورت کے مطابق تھے۔اگر کوئی شخص اپنے پرانے پتے کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ رہ رہا ہے، تب بھی وہ اس نظام سے باہر نہیں ہو جاتا۔ اس کا یا اس کے خاندان کا نام ریکارڈ میں موجود رہے گا۔اگر مہم کے دوران پائے جانے والے ضوابط کے تحت کسی کا نام ووٹر لسٹ سے کٹتا ہے، تو اسے غیر قانونی یا اصولوں کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔
الیکشن کمیشن کا کام شہریوں کی شہریت طے کرنا نہیں ہے:
عدالت نے اپنے تفصیلی حکم نامے میں الیکشن کمیشن کے اختیارات اور حدود کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے صرف دستاویزات کی ساکھ اور سچائی کی بنیاد پر ہی لوگوں کو ووٹر لسٹ میں جگہ دی ہے، جسے کسی بھی طور پر 'من مانی' کاروائی نہیں کہا جا سکتا۔
ججوں نے کہا کہ اس مہم کا مقصد معصوم لوگوں کو باہر نکالنا ہرگز نہیں تھا۔ اگر کسی کے دستاویزات مشکوک یا غلط پائے جاتے ہیں، تو الیکشن کمیشن کو پورا حق ہے کہ وہ اسے ووٹر لسٹ میں شامل کرنے سے انکار کر دے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں نکالا جانا چاہیے کہ الیکشن کمیشن ملک کے لوگوں کی شہریت طے کر رہا ہے۔
آئین اور آر پی ایکٹ کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے 'ایس آئی آر'
سپریم کورٹ نے اپنے حتمی نتیجے میں کہا کہ ایس آئی آر کا یہ پورا عمل بھارتی آئین اور 'عوامی نمائندگی ایکٹ 1950' (RP Act) کے دائرے کے اندر ہے۔ یہ ایک انتہائی وسیع اور تفصیلی کام ہے، جس کے پیشِ نظر الیکشن کمیشن کو اپنے قواعد و ضوابط اور طریقہ کار خود طے کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے۔ الیکشن کمیشن شہریت کا فیصلہ نہیں کرتا، تاہم اگر اسے کوئی معاملہ انتہائی مشکوک لگے، تو وہ ایسی رپورٹس مرکزی حکومت کو بھیجنے کا مجاز ہے۔
کیا تھا پورا تنازع اور درخواست گزاروں کا اعتراض؟
واضح رہے کہ اس ہائی پروفائل معاملے پر طویل بحث اور سماعت کے بعد سپریم کورٹ کی بنچ نے اسی سال کے آغاز میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ عدالت میں دائر مختلف درخواستوں میں الیکشن کمیشن کے اس خصوصی نظرثانی کے قانون کو چیلنج کیا گیا تھا۔
درخواست گزاروں کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ یہ مہم آئین کی دفعہ 326 اور عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کو حاصل عام اختیارات سے بہت آگے جاتی ہے۔ یہ پورا تنازع بنیادی طور پر کمیشن کی اس سخت شرط سے جڑا تھا، جس کے تحت سال 2002 (یا کچھ ریاستوں میں 2003) کی ووٹر لسٹ سے باہر رہنے والے ووٹرز کو اب اپنی ووٹر آئی ڈی حاصل کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا تھا کہ ان کے آباؤ اجداد یا والدین کا نام اس دور کی ووٹر لسٹ میں درج تھا یا نہیں۔ تاہم، سپریم کورٹ کے اس تازہ فیصلے کے بعد اب الیکشن کمیشن کی اس خصوصی مہم پر قانونی مہر لگ گئی ہے۔