کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں بھارتی 30 سالہ خاتون ہمانشی کھورانہ کے قتل کے الزام میں 32 سالہ شخص عبدالغفوری کو سات ماہ بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم ہمانشی کا قریبی ساتھی تھا اور قتل کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا تھا۔
ہمانشی کھورانہ کب لاپتہ ہوئی تھی؟
پولیس کے مطابق ہمانشی کھورانہ ٹورنٹو کے اسٹریچن ایونیو اور ویلنگٹن اسٹریٹ ویسٹ کے علاقے سے لاپتہ ہوئی تھی ۔ حکام نے ان کی تلاش شروع کی اور 20 دسمبر کو انہیں صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے ایک رہائش گاہ کے اندر مردہ پایا گیا۔پولیس نے بتایا کہ ہمانشی اور عبدالغفوری کے درمیان قریبی تعلق تھا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے ملزم کی تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کی تھیں تاکہ اس کا سراغ لگایا جا سکے۔
سات ماہ بعد ملزم گرفتار
ہمانشی کی موت کے بعد پولیس نے معاملے کی تفصیلی تفتیش شروع کی۔ ملزم کئی ماہ تک پولیس کی گرفت سے باہر رہا، سات اگست 2026 کو اسے ٹورنٹو میں تلاش کرکے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے عبدالغفوری کے خلاف فرسٹ ڈگری قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ ٹورنٹو پولیس کے مفرور اسکواڈ اور قتل و لاپتہ افراد سے متعلق یونٹ کے اہلکاروں نے ملزم کا سراغ لگانے کے لیے قومی اور بین الاقوامی پولیس اداروں کے ساتھ رابطہ کیا۔ پولیس کے مطابق اس تعاون کے ذریعے ملزم کو تلاش کرکے کینیڈا واپس لانے کی کاروائی میں مدد ملی۔
ہمانشی کے قتل پر بھارت کا اظہارِ افسوس
ہمانشی کھورانہ کے قتل کے بعد ٹورنٹو میں بھارتی قونصلیٹ جنرل نے بھی واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا تھا۔ قونصلیٹ نے کہا تھا کہ وہ ہمانشی کے خاندان کے ساتھ رابطے میں ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ قونصلیٹ نے مقامی حکام کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ برقرار رکھا۔ بھارتی قونصلیٹ نے ہمانشی کو ایک نوجوان بھارتی شہری قرار دیتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی تھی۔ اس کے علاوہ ان کی میت کو بھارت واپس لانے کے لیے بھی کوششیںکی تھی۔ پولیس کے مطابق عبدالغفوری کی گرفتاری کے بعد اب کیس میں مزید قانونی کاروائی آگے بڑھے گی اور تفتیش کے دوران قتل سے متعلق دیگر تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔