Tuesday, May 12, 2026 | 24 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • تمل ناڈو:'اے آئی اے ڈی ایم کے ' کے 30 ایم ایل ایز نے' ٹی وی کے' کی حمایت کا کیا اعلان

تمل ناڈو:'اے آئی اے ڈی ایم کے ' کے 30 ایم ایل ایز نے' ٹی وی کے' کی حمایت کا کیا اعلان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 12, 2026 IST

 تمل ناڈو:'اے آئی اے ڈی ایم کے ' کے 30  ایم ایل ایز نے' ٹی وی کے' کی حمایت  کا کیا اعلان
تمل ناڈو کی سیاست میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ایک بڑا ہلچل دیکھنے کو ملا ہے۔' اے آئی اے ڈی ایم کے 'کے اندر پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ پارٹی دو دھڑوں میں بٹ گئی ہے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے سینئر لیڈر سی وی شنمیگم نے 30 ممبرانِ اسمبلی کے ساتھ وزیراعلیٰ تھلاپتی وجے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد پارٹی کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے  حکومت کا ساتھ دینا ہے۔
 
 شنمیگم کا بیان:عوامی مینڈیٹ وجے کے حق میں ہے
 
تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں اے آئی اے ڈی ایم کے  نے کل 234 میں سے 47 نشستیں حاصل کی تھیں، جن میں سے 30 ممبران نے اب اپنا الگ گروپ بنا لیا ہے۔ شنمیگم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عوام کا فیصلہ واضح طور پر وجے کو وزیراعلیٰ بنانے کے حق میں ہے۔ ہم عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور وزیراعلیٰ وجے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہم بطور اے آئی اے ڈی ایم کے  قانون ساز گروپ، TVK حکومت کو مکمل تعاون فراہم کریں گے۔
 
 پلانی سوامی پر ڈی ایم کے سے اتحاد کی کوشش کا الزام:
 
باغی دھڑے کے لیڈر شنمیگم نے پارٹی کے جنرل سکریٹری ایڈاپڈی کے پلانی سوامی پر سخت تنقید کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہیں ڈی ایم کے اور 'اے آئی اے ڈی ایم کے ' کے اتحاد کو قبول کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔شنمیگم کے مطابق، انہیں بتایا گیا کہ پلانی سوامی 'ڈی ایم کے ' کی مدد سے وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں، جس کی انہوں نے سخت مخالفت کی۔
 انہوں نے کہا کہ ڈی ایم کے  کے ساتھ اتحاد ایم جی رام چندرن (MGR) اور جے للتا کے نظریات کے ساتھ غداری ہے۔ پارٹی کی بنیاد ہی ڈی ایم کے  کی مخالفت میں رکھی گئی تھی، اس لیے اس کے ساتھ کھڑا ہونا ناقابلِ قبول ہے۔
 
 فلور ٹیسٹ سے پہلے سیاسی صف بندی:
 
یہ سیاسی تبدیلی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب بدھ کے روز وزیراعلیٰ تھلاپتی وجے کو تمل ناڈو اسمبلی میں اپنا فلور ٹیسٹ (اعتماد کا ووٹ) ثابت کرنا ہے۔انتخابات میں 108 نشستیں جیتنے والی ٹی وی کے  کانگریس ،بائیں بازو کی جماعتیں ،وی سی کے اور آئی یو ایم ایل کی حمایت سے  حکومت سازی میں کامیاب ہوئی۔اب AIADMK کے 30 ممبران کی حمایت کے بعد وجے کی حکومت کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ہے۔
 
شنمیگم نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا یہ گروپ 'ٹی وی کے ' کے علاوہ کسی دوسری جماعت (بشمول بی جے پی) کے ساتھ اتحاد میں شامل نہیں ہے۔