تلنگانہ ہائی کورٹ نے حائیڈراکو ایک نجی پلاٹ پر لگایا گیا سائن بورڈ 24 گھنٹے کے اندر ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ قانونی طریقہ کار پر عمل کیے بغیر کسی کی جائیداد یا قبضے میں مداخلت نہ کریں۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کی۔
کیا ہے معاملہ؟
یہ درخواست ٹی جھانسی رانی اور ٹی اجے کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس صاحب نگر کلاں گاؤں، حیات نگر منڈل، رنگا ریڈی ضلع میں سروے نمبر 68 کے تحت 160 مربع گز کا پلاٹ ہے۔ ان کا الزام تھا کہ ہائی کورٹ کے پہلے ہدایت کے باوجود حائیڈرا نے ان کے پلاٹ نمبر 40 پر بغیر اجازت سائن بورڈ لگا دیا اور ان کے خلاف انہدامی کاروائی کے لیے نوٹس بھی جاری کیا۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے اپیل کی کہ ہائیڈراکو ان کے قبضے اور جائیداد کے استعمال میں مداخلت سے روکا جائے۔
درخواست گزاروں کا موقف
درخواست گزاروں کے وکیل سینئر ایڈووکیٹ وی ہری ہرن نے عدالت میں کہا کہ حائیڈرا نے نہ کوئی نوٹس جاری کیا اور نہ ہی کوئی تحقیقات کیں کہ درخواست گزاروں نے سرکاری زمین پر قبضہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرات منظور شدہ نقشے کے مطابق کی گئی ہیں اور ہائیڈرا کی کاروائی ہائی کورٹ کے پہلے ہدایت کے خلاف ہے۔
عدالت نے کیا کہا؟
حائیڈرا کے وکیل نے عدالت سے مزید ہدایات لینے کے لیے وقت مانگا، لیکن عدالت نے پہلے ہی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2 مارچ کو سابق درخواستوں کی سماعت کے دوران تعمیراتی اجازت منسوخ کرنے اور انہدامی نوٹس کو ختم کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے کہاکہ اگر سرکاری زمین پر کوئی تجاوزات پائی جاتی ہیں تو حکام قانون کے مطابق نئی کاروائی کر سکتے ہیں۔ ہائی کورٹ نے پہلی نظر میں ہائیڈرا کی جانب سے سائن بورڈ لگانے کی کاروائی کو سابقہ ہدایت کے خلاف پایا اور ادارے کو ہدایت دیا کہ عدالتی ہدایت ملنے کے 24 گھنٹے کے اندر سائن بورڈ ہٹا دیا جائے۔
معاملےپر11اگست کو اگلی سماعت
عدالت نے GHMC، اس کے ڈپٹی کمشنر اور HYDRAA کو بھی ہدایت دی کہ وہ قانونی طریقہ کار مکمل کیے بغیر درخواست گزاروں کے قبضے یا جائیداد کے استعمال میں مداخلت نہ کریں۔ اس معاملے کی مزید سماعت 11 اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔