مہاراشٹر کے گڈچرولی ضلع سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک رہائشی آشرم اسکول کے ہاسٹل میں زہریلے سانپ کے داخل ہونے کے بعد اس کے ڈسنے سے تین طلبہ کی موت ہوگئی، جبکہ دیگر متاثرہ طلبہ کا علاج جاری ہے۔ ایک طالب علم کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ 10 اگست کی رات تقریباً 2 بجے ہاسٹل کے ایک کمرے میں تقریباً 79 طلبہ سو رہے تھے۔ اسی دوران اچانک ایک زہریلا سانپ کمرے میں داخل ہوگیا اور اس نے کچھ طلبہ کو ڈس لیا۔
سانپ کے حملے کے بعد ہاسٹل میں افراتفری مچ گئی۔ طلبہ خوف کے عالم میں جاگ اٹھے اور فوری طور پر اسکول انتظامیہ کو اطلاع دی گئی۔ متاثرہ طلبہ کو بغیر کسی تاخیر کے ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا علاج شروع کیا گیا۔ تاہم، تین طلبہ کی حالت انتہائی خراب ہوگئی اور علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔ ایک طالب علم کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ دیگر متاثرہ طلبہ بھی طبی نگرانی میں ہیں۔ واقعے کی خبر پھیلتے ہی اسکول اور آس پاس کے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اپنے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے اس حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد اہل خانہ بھی شدید صدمے میں ہیں۔
اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر دور دراز علاقوں میں قائم رہائشی اسکولوں میں طلبہ کی حفاظت کے انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں سانپ اور دیگر زہریلے جانوروں کا خطرہ موجود رہتا ہے، ہاسٹل کی عمارتوں کی حفاظت اور طلبہ کے لیے ہنگامی طبی سہولیات انتہائی اہم ہو جاتی ہیں۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ سانپ ہاسٹل کے کمرے میں کیسے داخل ہوا اور طلبہ کی حفاظت کے لیے وہاں کیا انتظامات موجود تھے؟ واقعے کی مکمل تفصیلات اور ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوگا۔