تلنگانہ کے آصف آباد، پنچی کلپیٹ منڈل میں ایک شیر کی گشت کی اطلاع کے بعد مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی افراد کے مطابق، ہفتے کی رات لوڈ پلی اور پنچی کلپیٹ گاؤں کے درمیان ایک ندی کے قریب شیر دیکھا گیا۔ مبینہ طور پر شیر نے دونوں گاؤں کے درمیان سڑک پر کچھ فاصلے تک ایک کار کا پیچھا بھی کیا۔ ڈرائیور نے رفتار تیز کرکے کسی طرح وہاں سے نکلنے میں کامیابی حاصل کی۔
اس واقعے کے بعد اس سڑک سے گزرنے والے موٹرسائیکل سواروں میں بھی خوف پیدا ہوگیا۔ روزانہ اس راستے کا استعمال کرنے والے افراد، خاص طور پر طلبہ، نے شیر کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ مقامی لوگوں نے محکمہ جنگلات سے مطالبہ کیا کہ شیر کو آبادی سے دور جنگل کی طرف واپس بھیجنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور لوگوں کی حفاظت کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں۔ گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ ماضی میں شیروں کے حملوں میں دو افراد کی ہلاکت کے واقعات سامنے آچکے ہیں، جس کی وجہ سے وہ پہلے ہی خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے میں آبادی کے قریب شیر کی موجودگی نے ان کی پریشانی مزید بڑھا دی ہے۔
محکمہ جنگلات کے حکام نے پنچی کلپیٹ رینج کے جنگلات میں شیر کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ حکام کے مطابق، ممکن ہے کہ یہ شیر مہاراشٹر کے تاڈوبا آندھری ٹائیگر ریزرو سے بھٹک کر بیجور اور پنچی کلپیٹ منڈل کے جنگلات تک پہنچا ہو۔ بتایا گیا کہ شیر اس علاقے کے جنگلات میں مسلسل گشت کر رہا ہے، جس پر نظر رکھنے کے لیے ٹریکرز تعینات کیے گئے ہیں۔
محکمہ جنگلات نے شیر کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے مختلف مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرہ ٹریپ بھی نصب کیے ہیں۔ حکام نے گاؤں والوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ صبح 9 بجے کے بعد ہی کھیتوں میں جائیں اور شام 5 بجے سے پہلے اپنے کھیتوں سے واپس آجائیں۔ محکمہ جنگلات نے کسانوں کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ کھیتی باڑی کے لیے اکیلے جانے کے بجائے گروپ میں جایا کریں۔ چرواہوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مویشیوں کو جنگل کے اندر چرانے کے لیے نہ لے جائیں تاکہ شیر کے ساتھ کسی ممکنہ حادثہ سے بچا جا سکے۔
حکام کے مطابق، تقریباً ایک سال بعد اس علاقے کے جنگلات میں شیر کی موجودگی دیکھی گئی ہے، جسے جنگلات اور ماحولیاتی ایک مثبت پیش رفت بھی سمجھ رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مارچ 2025 میں یلور میں ایک شیر کے غیر قانونی شکار کا واقعہ پیش آیا تھا۔ شیروں کو غیر قانونی شکار سے بچانے کے لیے محکمہ جنگلات کو مزید اقدامات کرنے چاہئیں اور مقامی لوگوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کے بارے میں آگاہی بڑھانی چاہیے۔ ان کے مطابق مقامی آبادی کو تحفظ کی کوششوں میں شامل کرنا بھی ضروری ہے۔
اسی سال مئی میں پنچی کلپیٹ منڈل کے یلور گاؤں میں ایک بالغ مادہ شیرنی کے مبینہ شکار کے الزام میں 16 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق، ملزمان نے ایک نالے کے قریب برقی باڑ لگا کر شیرنی کا شکار کیا تھا۔ گرفتار افراد کے قبضے سے شیر کے ناخن، کھال اور جسم کے دیگر اعضا کے علاوہ شیرنی کو مارنے کے لیے استعمال ہونے والا سامان بھی برآمد کیا گیا تھا۔ موجودہ واقعے کے بعد محکمہ جنگلات کی ٹیمیں شیر کی گشت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور مقامی لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔