Saturday, September 05, 2026 | 21 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران کی جوہری تنصیب پک ایکس ماؤنٹین کو بہت جلد نشانہ بنا سکتے ہیں: ٹرمپ

ایران کی جوہری تنصیب پک ایکس ماؤنٹین کو بہت جلد نشانہ بنا سکتے ہیں: ٹرمپ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 05, 2026 IST

ایران کی جوہری تنصیب پک ایکس ماؤنٹین کو بہت جلد نشانہ بنا سکتے ہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 4 ستمبر کو ایران کے زیرِ زمین جوہری مقام ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو نشانہ بنانے کی ایک بار پھر دھمکی دی۔ اوول آفس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکہ کو اس مقام پر کسی سرگرمی کا پتا چلا تو اسے "بہت جلد" نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کاروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، امریکی کاروائیوں کے پانچ ماہ کے دوران ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو صورتحال کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی تھی۔
 

پک ایکس ماؤنٹین پر امریکہ کی نظر

ٹرمپ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس ایران کے 'پک ایکس ماؤنٹین' پر سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس مقام پر موجود افراد کی نقل و حرکت سے بھی واقف ہے اور اگر کوئی خطرناک سرگرمی سامنے آئی تو کاروائی کی جا سکتی ہے۔ پک ایکس ماؤنٹین ایران کی (نطنز) جوہری تنصیب کے قریب واقع ہے۔ اسے ایک مضبوط زیرِ زمین کمپلیکس بتایا جاتا ہے، جہاں گہرائی میں دو سرنگوں کے نظام موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلیجنس کا خیال ہے کہ ایران نے ہزاروں سینٹری فیوجز کو اس گہرے زیرِ زمین مرکز میں منتقل کیا ہے۔ اس مقام کی زیرِ زمین ساخت کی وجہ سے اسے عام فضائی حملوں کے خلاف کافی مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں اس پر ممکنہ امریکی حملہ ایران کے جوہری ڈھانچے کے خلاف کاروائی میں ایک بڑا قدم ہوگا۔
 

ٹرمپ نے امریکی کاروائی کا دفاع کیا

ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوجی کاروائی نہ ہوتی تو اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کو مزید بڑے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کاروائیوں نے بڑے علاقائی تنازع کو روکنے میں مدد کی ہے۔
 

ایرانی فوجی تنصیبات پر امریکی حملے

ٹرمپ کے یہ بیانات امریکی سینٹرل کمانڈ یعنی سینٹ کام کے اس بیان کے چند دن بعد سامنے آئے ہیں جس میں ایرانی فوجی اہداف پر امریکی حملوں کی ایک نئی لہر کی اطلاع دی گئی تھی۔ سینٹ کام کے مطابق ان حملوں میں اسلامی انقلابی گارڈ کور سے منسلک کئی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار، سمندری اثاثے، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز شامل تھے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کاروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور امریکی فوجیوں کے خلاف انقلابی گارڈ کور  کی مبینہ کاروائیوں کے جواب میں کی گئیں۔
 

ایرانی ریڈار سسٹم کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ

ٹرمپ نے ایران کے جدید ریڈار نظام پر حالیہ امریکی حملوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکی افواج نے دو مرتبہ ایران کے جدید ریڈار سسٹم کو تباہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے پہلے ریڈار کو دوبارہ نصب کیا، لیکن امریکی فوج نے اسے دوبارہ نشانہ بنایا۔ ٹرمپ کے مطابق اس کے بعد امریکی افواج کو ایران کی جانب سے کسی بڑی سرگرمی کا مشاہدہ نہیں ہو رہا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران شاید اب دوبارہ ریڈار نصب کرنے سے گریز کرے گا۔
 

یہ مقام ابھی مکمل طور پر فعال ہے یا نہیں

 پک ایکس ماؤنٹین، جسے فارسی میں کوہِ کولنگ گاز لا کہا جاتا ہے، نطنز جوہری کمپلیکس سے تقریباً دو کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ ایران نے ماضی میں اس زیرِ زمین مقام کو جدید سینٹری فیوجز کی تیاری اور اسمبلنگ کے لیے استعمال کرنے کا اشارہ دیا تھا،  اس مقام کی موجودہ حیثیت اور وہاں موجود جوہری مواد یا سینٹری فیوجز کے بارے میں آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق وہاں تعمیراتی سرگرمیاں جاری رہی ہیں، یہ کمپلیکس زمین میں بہت گہرائی تک بنایا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے فضائی حملوں کا مشکل ہدف سمجھا جاتا ہے