مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین نے پاکستان کے راستے ایران کو 400 راکٹ لانچر فراہم کیے ہیں۔ ان دعوؤں کی اب تک کوئی سرکاری یا آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ان رپورٹس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو یہ حیران کن ہوگا۔
ٹرمپ نے کیا کہا؟
بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر چین واقعی اس معاملے میں ملوث ہے تو یہ حیران کن بات ہوگی۔انہوں نے کہا،صدر شی جن پنگ نے مجھ سے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں شامل نہیں ہوں گے، لیکن اگر ایسا ہوا تو مجھے بہت مایوسی ہوگی۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی بڑھ چکی ہے۔ اس سے قبل بھی وہ ایران کو سخت فوجی کاروائی سے خبردار کر چکے ہیں، جس کے باعث خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
چین کے مبینہ کردار پر سوالات
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین نے پاکستان کے ذریعے ایران کو فوجی سازوسامان فراہم کیا، جس کے بعد عالمی سطح پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ چین اور پاکستان نے ان الزامات پر اب تک کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا ہے، جبکہ 400 راکٹ لانچروں کی مبینہ منتقلی کی بھی کوئی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس کے باوجود تجزیہ کار اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوئے تو تنازع مزید بڑھ سکتاہے اور دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کا میڈیاسے متعلق بیان
ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے علاوہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے پر بھی بات کی۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت AI کے میدان میں چین سے کافی آگے ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کو احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ ضرورت سے زیادہ پابندیاں لگانے کی وجہ سے وہ چین سے پیچھے نہ رہ جائے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ جو ملک مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں کامیاب ہوگا، وہ مستقبل میں نمایاں برتری حاصل کرے گا، اس لیے وہ امریکی اختراع کاروں کے کام میں غیر ضروری رکاوٹیں نہیں ڈالنا چاہتے۔