Wednesday, August 19, 2026 | 04 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران نے 2 بیلسٹک میزائل داغے۔ یو اے ای نےکیا دعویٰ، تجارتی روابط معطل کرنے کا کیااعلان

ایران نے 2 بیلسٹک میزائل داغے۔ یو اے ای نےکیا دعویٰ، تجارتی روابط معطل کرنے کا کیااعلان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 19, 2026 IST

ایران نے 2 بیلسٹک میزائل داغے۔ یو اے ای نےکیا دعویٰ، تجارتی روابط معطل کرنے کا کیااعلان
متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے دو بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن میں سے ایک میزائل امارات کے علاقائی حدود میں گرا، جبکہ دوسرا میزائل علاقائی حدود سے باہر جا گرا۔ اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے دونوں میزائلوں کا سراغ لگایا۔ حکام نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

متحدہ عرب امارات میں حفاظتی الرٹ جاری

میزائلوں کی اطلاع کے بعد متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی۔
اتھارٹی نے لوگوں سے کہا کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں اور سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی تازہ ہدایات پر عمل کریں۔ وزارت داخلہ نے بھی موبائل فون پر ایک ہنگامی پیغام بھیجا، جس میں لوگوں کو موجودہ صورتحال اور ممکنہ میزائل خطرے کے پیش نظر قریبی محفوظ عمارت میں پناہ لینے کی ہدایت کی گئی۔ یہ الرٹ کچھ دیر بعد ہٹا دیا گیا۔

ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی

یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان لڑائی روکنے کے لیے ہونے والا مفاہمتی معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اس سے قبل ایران پر الزام لگایا تھا کہ اس نے ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی، یعنی "ADNOC" کے ایک جہاز کو نشانہ بنایا۔ یہ جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد متحدہ عرب امارات نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ حملے بند کرے، کشیدگی ختم کرے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولے۔

مئی کے بعد پہلی بڑی میزائل وارننگ

متحدہ عرب امارات میں اس سے پہلے آخری میزائل وارننگ مئی میں جاری ہوئی تھی۔ جون میں بھی شہریوں کو ایک ہنگامی فون الرٹ موصول ہوا تھا، لیکن بعد میں حکام نے بتایا کہ یہ میزائل حملے کا خطرہ نہیں بلکہ قومی ابتدائی وارننگ نظام میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے جاری ہوا تھا۔

جنگ شروع ہونے کے بعد ہزاروں میزائل اور ڈرون حملے

رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی طرف تقریباً 3 ہزار میزائل اور ڈرون داغے گئے تھے۔ اس کے بعد جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات نے کچھ عرصے تک کسی نئے حملے کی اطلاع نہیں دی تھی۔ اب تازہ میزائل واقعے نے خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

ایران نے میزائل داغنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی

 رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے میزائلوں کو ایرانی قرار دیا، لیکن ایران نے اس الزام کی تردید کی اور اسے علاقائی اعتماد کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ میزائل حملے کے بعد UAE نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دیے ہیں۔متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تجارت اور تجارتی روابط معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت میں کیا طے ہوا تھا؟

17 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک مفاہمتی معاہدہ ہوا تھا، جس کا مقصد کئی ماہ سے جاری جنگ کو روکنا تھا۔ اس معاہدے میں دونوں جانب سے فوجی کاروائیاں روکنے اور ایک دوسرے کے خلاف مزید حملے نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لبنان سمیت خطے کے دیگر محاذوں پر بھی لڑائی ختم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ معاہدے میں یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے بعد میں ایک حتمی معاہدہ کیا جائے گا۔ اس معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور کرانے کی بات بھی شامل تھی۔

امریکہ پر کیا ذمہ داریاں عائد کی گئی تھیں؟

مفاہمت کے مطابق امریکہ کو حتمی معاہدہ ہونے کے بعد اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنا تھی۔ اس کے علاوہ ایران کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے پیکیج پر کام شروع کرنے کی بات بھی کی گئی تھی۔ معاہدے میں ایران کے خلاف بعض پابندیاں ہٹانے، ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے رعایت دینے اور بیرون ملک ایرانی رقم تک رسائی دینے کی شرائط بھی شامل تھیں۔

ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ

معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگیں صاف کرنے اور 60 دن تک تجارتی جہازوں کو بغیر کسی فیس کے گزرنے کی اجازت دینے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ ایران نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا اور موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔ تازہ میزائل واقعے کے بعد اب خطے میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے ہونے والی مفاہمت کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید کس حد تک بڑھ سکتی ہے۔
 
آبنائے ہرمز کا مسئلہ اس تنازع کا مرکزی حصہ بنا ہوا ہے۔ یہ دنیا کی اہم تیل اور گیس کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، اس لیے یہاں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ سے عالمی توانائی کی قیمتوں اور تجارت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔