Thursday, August 27, 2026 | 12 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • سرکاری نوکریوں کا بڑا وعدہ، مایاوتی نے یوگی حکومت کو گھیرا

سرکاری نوکریوں کا بڑا وعدہ، مایاوتی نے یوگی حکومت کو گھیرا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 27, 2026 IST

سرکاری نوکریوں کا بڑا وعدہ، مایاوتی نے یوگی حکومت کو گھیرا
اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل روزگار کا مسئلہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اگلے چھ ماہ کے دوران ایک لاکھ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے اس اعلان پر بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے ردعمل دیتے ہوئے اسے درست سمت میں قدم قرار دیا، تاہم ساتھ ہی اسے تاخیر سے اٹھایا گیا انتخابی اقدام بھی قرار دیا۔
 
مایاوتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایک لاکھ نوجوانوں کو مقررہ وقت کے اندر شفاف طریقے سے سرکاری نوکریاں مل جاتی ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔ تاہم انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ بھرتی کا عمل پیپر لیک، بدعنوانی اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی سے پاک ہونا چاہیے، تاکہ یہ اعلان محض انتخابی وعدہ بن کر نہ رہ جائے۔ بی ایس پی سربراہ نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمتوں میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طبقات کے لیے مختص بیک لاگ اسامیوں کو پُر کرنے کے حوالے سے بھی واضح اعلان کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان طبقات کے امیدوار طویل عرصے سے اپنی جائز تقرریوں کے منتظر ہیں۔
 
مایاوتی نے خاص طور پر 69 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا معاملہ اٹھایا۔ ان کے مطابق اس بھرتی مہم میں ریزرویشن سے متعلق تنازعے سے متاثر تقریباً 6,800 امیدوار اپنی تقرری کے مطالبے کو لے کر مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ان امیدواروں کی صورتحال پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور ان کے مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جائے۔ مایاوتی نے اتر پردیش میں سرکاری اسکولی تعلیم کی صورتحال پر بھی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی طویل عرصے سے سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے اور تعلیم کے معیار میں بہتری کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
 
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بند کیے گئے تقریباً 30 ہزار سرکاری اسکولوں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، تاکہ غریب اور پسماندہ طبقوں کے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آسکیں۔ اس کے ساتھ ہی مایاوتی نے خواتین کی فلاح و بہبود اور تحفظ کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو صرف چند سہولیات فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ حکومتوں کو ہر شعبے میں خواتین کو استحصال، تشدد اور ہراسانی سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹھوس پالیسیاں نافذ کرنی چاہئیں۔
 
یوگی حکومت کی جانب سے ایک لاکھ سرکاری نوکریوں کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روزگار، تعلیم، ریزرویشن اور نوجوانوں کے مسائل ریاست کی سیاست میں اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت مقررہ چھ ماہ میں بھرتیوں کا عمل مکمل کر پاتی ہے یا نہیں اور مایاوتی کی جانب سے اٹھائے گئے بیک لاگ اسامیوں اور 6,800 امیدواروں کے معاملے پر کیا فیصلہ کیا جاتا ہے۔