Thursday, May 14, 2026 | 26 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی: اقوام متحدہ میں امریکہ کا ایران پر بڑا الزام

آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی: اقوام متحدہ میں امریکہ کا ایران پر بڑا الزام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: May 14, 2026 IST

آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی: اقوام متحدہ میں امریکہ کا ایران پر بڑا الزام
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر Mike Waltz نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سمندری راستوں میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے، جس کے باعث وہ عالمی سطح پر تیزی سے تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ امریکی سفیر کے مطابق ایران نہ صرف سمندر میں بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے بلکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ٹول عائد کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔
 
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری بیان میں مائیک والٹز نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران مخالف قرارداد کو 113 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ قرارداد میں ایران کی بحری سرگرمیوں کو عالمی تجارت اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
 
امریکہ کے مطابق بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی اہم ایشیائی ممالک نے بھی اس اقدام کی حمایت کی۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ایران کے اقدامات عالمی بحری تجارت کے استحکام کو متاثر کر رہے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
 
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی بحری راستوں میں شمار کی جاتی ہے، جہاں سے تیل اور گیس کی بڑی عالمی ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر پڑ سکتے ہیں۔
 
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی برقرار
 
امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے جنگ بندی نافذ ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات اس حد تک خراب ہو چکے تھے کہ پورے مغربی ایشیائی خطے میں جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔ بعد ازاں اپریل 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی طے پائی، جس کے بعد صورتحال میں وقتی سکون آیا۔
 
امریکی صدر  نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ امریکہ مسلسل ایران کے جوہری پروگرام اور فوجی سرگرمیوں پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔
 
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے دوبارہ کوئی حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق ملک اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔