Monday, June 15, 2026 | 28 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ، 14 نکاتی ایجنڈا زیرغور

ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ، 14 نکاتی ایجنڈا زیرغور

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 15, 2026 IST

ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ، 14 نکاتی ایجنڈا زیرغور
امریکہ اور ایران نے جنگ کے خاتمے اور امن کی جانب اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور انہوں نے اس پیش رفت پر سب کو مبارکباد دی۔ایران کی جانب سے بھی معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امکان ہے کہ دونوں ممالک جمعہ 19جون کو سوئٹزرلینڈ میں معاہدے پر دستخط کریں گے۔

 فوری طور پر حملوں اور دیگر جنگی کاروائیوں کا خاتمہ

ابھی تک معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق ہوا ہے۔رپورٹس کے مطابق اس ایجنڈے میں فوری طور پر حملوں اور دیگر جنگی کارروائیوں کا خاتمہ، کشیدگی میں کمی، مذاکرات کا عمل جاری رکھنا اور خطے میں استحکام پیدا کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں امن سے عالمی معیشت کو بھی استحکام ملے گا، جبکہ عالمی برادری اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی اہم کوشش قرار دے رہی ہے۔

 امریکہ اور ایران کےدرمیان 14 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق

آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تجارتی ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے۔ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں۔ مذاکرات کے دوران کوئی نئی پابندیاں نہ لگائی جائیں۔ ایرانی تیل کو عارضی چھوٹ دی جائے۔ منجمد اور ضبط شدہ ایرانی اثاثوں کو رہا کیا جائے۔ مذاکرات کی مدت میں 60 دن کی توسیع کی جائے۔ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ باقی یورینیم کو ریفائن نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر پابندی لگائی جائے۔ ایران کے باقی ماندہ یورینیم پر مذاکرات کیے جائیں۔ علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اقتصادی اور تعمیر نو کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ حتمی معاہدے پر بات چیت کا موقع دیا جانا چاہیے۔ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ ایران نے 300 بلین ڈالر کے بحالی پیکج کے ساتھ ساتھ طویل مدتی سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

60 روزہ خصوصی مذاکرات 

تازہ ترین معاہدے میں اہم مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ اگرچہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہری دفاع کے لیے جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے، لیکن امریکہ نے کسی بھی صورت میں اس سے اتفاق نہیں کیا۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا ہے۔ اس معاملے پر دونوں ممالک نے 60 روزہ خصوصی مذاکرات پر اتفاق کیا ہے۔ یعنی ان 60 دنوں کے دوران وہ ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے۔ معائنہ، یورینیم کی افزودگی کے عمل اور ذخیرے کا جائزہ لیا جائے گا اور مزید فیصلہ کیا جائے گا۔

 سب کومبارک ہو: ٹرمپ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے ٹرتھ سوشل پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں اور سب کو مبارک ہو، انھوں نے کہا امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر رہا ہے، اور معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔انھوں نے کہا اب تیل کی ترسیل بحال کرنے کا وقت آ گیا ہے اور عالمی تجارتی سرگرمیاں دوبارہ معمول پر لائی جائیں گی۔ ٹرمپ نے دنیا بھر کے تجارتی اور مال بردار جہازوں کو اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی دعوت بھی دی۔

 امن سے عالمی معیشت کو استحکام ملےگا

ٹرمپ کے بیان کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے اورعالمی معیشت کو استحکام ملنے کی توقع ہے۔

 ایران نےبھی کی تصدیق 

ایران نے بھی امریکہ سے امن معاہدے کی تصدیق کر دی، ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی پر بیان میں کہا معاہدے پر سب کو عمل درآمد کرنا ہوگا، معاہدے کا متن دستخط کے بعد جاری ہوگا، مفاہمتی یادداشت کا مطلب دشمن پر اعتماد کرنا نہیں، حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات 60 دن میں ہوں گے۔
 
انھوں نے کہا معاہدے کی پاسداری نہ ہوئی تو ایران ردعمل دے گا، ایران کی فوجی طاقت نے معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے میں مدد کی، ساٹھ روزہ مذاکرات میں پابندیوں کے خاتمے پر بات ہوگی اور جوہری معاملات زیر بحث آئیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مذاکرات میں ثالث موجود رہیں گے، منجمد اثاثوں کی بحالی، ناکہ بندی اور جنگ کا خاتمہ ہونے پر مذاکرات ہوں گے، مذاکراتی عمل میں پابندیوں کے خاتمے پر فوکس کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا ایم او یو پر اس وقت تک اتفاق نہیں کیا جب تک اپنے مطالبات کو متن میں شامل نہ کرا لیا۔