• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا آغاز، سوئٹزرلینڈ میں جوہری معاہدے اور پابندیوں میں نرمی پر بات چیت

امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا آغاز، سوئٹزرلینڈ میں جوہری معاہدے اور پابندیوں میں نرمی پر بات چیت

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 21, 2026 IST

امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا آغاز، سوئٹزرلینڈ میں جوہری معاہدے اور پابندیوں میں نرمی پر بات چیت
امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا پہلا دور آج سوئٹزرلینڈ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے جیسے اہم معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔
 
یہ مذاکرات گزشتہ ہفتے ہونے والے عبوری امن معاہدے کے بعد منعقد کیے جا رہے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک کو مستقل اور جامع حل تک پہنچنے کے لیے 60 دن کی مدت دی گئی ہے۔
 
رپورٹس کے مطابق امریکا مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں ایران سے مطالبہ کرے گا کہ وہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے۔ ان تنصیبات کا آخری معائنہ جون 2025 میں کیا گیا تھا۔ اس کے بدلے امریکا ایران کے منجمد اثاثوں میں سے کچھ رقم جاری کرنے پر غور کر رہا ہے، جس کا آغاز ممکنہ طور پر قطر میں موجود 6 بلین ڈالر کے منجمد فنڈز سے ہو سکتا ہے۔ یہ رقم خوراک، ادویات اور دیگر انسانی ضروریات کی فراہمی کے لیے استعمال کی جائے گی۔
 
مذاکرات میں ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتّی کریں گے۔ اس عمل میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔
 
عالمی برادری کی نظریں ان مذاکرات پر مرکوز ہیں کیونکہ ان کے نتائج نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔