امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی فوجی کارروائی کے امکانات سے متعلق خبروں کے درمیان تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایران نے اپنے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ذریعے سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیگا۔ تہران نے یہ بھی کہا کہ فوجی حل کا دور ختم ہو چکا ہے اور امریکہ ماضی میں بھی ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی آزما چکا ہے لیکن اسے کامیابی نہیں ملی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دی ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق واشنگٹن میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فوجی حکام نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
ایران نے ٹرمپ کے دورۂ چین کو محض سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک “اسٹریٹجک پیغام رسانی” قرار دیا ہے۔ تہران کا ماننا ہے کہ امریکہ نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں چینی جہازوں کو رسائی دے کر اپنا جواب دیا۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام دراصل واشنگٹن کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کے ہاتھ میں ہے اور امریکی دباؤ تہران اور بیجنگ کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹجک تعلقات کو متاثر نہیں کر سکتا۔
سیاسی سطح پر ایران نے انکشاف کیا ہے کہ اسے امریکہ کی جانب سے حالیہ 14 نکاتی تجویز پر باضابطہ ردعمل موصول ہوا ہے، تاہم تہران نے واشنگٹن پر “زیادہ سے زیادہ مطالبات” مسلط کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی چند بنیادی شرائط بھی واضح کی ہیں، جن میں آبنائے ہرمز پر مکمل خودمختاری کا اعتراف، جنگ کے خاتمے کی بین الاقوامی ضمانتیں، پابندیوں کا خاتمہ، نقصانات کا معاوضہ اور منجمد اثاثوں کی واپسی شامل ہیں۔
ادھر ہندوستان میں برکس اجلاس کے دوران عباس عراقچی نے امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “غیر قانونی جنگوں” نے عالمی نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں کے درمیان زیادہ متوازن نظام قائم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ دھمکیوں اور فوجی دباؤ کی پالیسی ترک کر دے تو سفارتی حل ممکن ہو سکتا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں واشنگٹن کے متضاد بیانات مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ تقریباً چالیس دن جاری رہی تھی، جس کے بعد پاکستانی ثالثی کے ذریعے عارضی جنگ بندی عمل میں آئی۔ تاہم، مذاکرات میں تعطل کے بعد کشیدگی دوبارہ بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کے اطراف ناکہ بندی بھی سخت کر دی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈی میں بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔