امریکہ اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی میں اتوار کو مسلسل دوسرے روز بھی کمی دیکھنے میں آئی۔ امریکی افواج نے ایران پر اپنے حملے روک رکھے، جبکہ تہران نے بھی دعویٰ کیا کہ اس نے جوابی کارروائیوں کو فی الحال معطل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے اس اقدام کو جاری سفارتی کوششوں اور ممکنہ عبوری جنگ بندی کے معاہدے کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ایران کی فائرنگ کے بعد امریکہ نے تقریباً دو ہفتوں تک ایرانی ساحلی علاقوں، فوجی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں کے بعد خطے میں جنگ کے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا تھا، تاہم اب امریکہ کی جانب سے اچانک حملے روکنے کی وجہ پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے اس پیش رفت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سفارت کاری کو موقع دینا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ، عمان اور ایران کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطے مسلسل جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران، اور خاص طور پر حالیہ دنوں میں، اعلیٰ سیاسی قیادت سے لے کر تکنیکی سطح تک متعدد دور کی بات چیت ہوئی ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار ہو۔
مائیک والٹز نے ان خبروں کو بھی مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایران کے حملوں کے خلاف دفاع کے لیے امریکی میزائل دفاعی نظام یا انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر برقرار ہے اور امریکہ اپنے اتحادیوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ کی یوکرین کو سخت وارننگ
دوسری جانب ایران کے رکن پارلیمنٹ ابراہیم عزیزی نے بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی جہاز پر مبینہ حملے کے بعد یوکرین کو سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ یوکرین کو ایسے اقدامات سے فوری طور پر باز آنا چاہیے کیونکہ اس طرح کی کارروائیاں خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتی ہیں۔
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور بحری مفادات کے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے اور اگر کسی بھی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران اس کا مناسب اور مؤثر جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے بیان کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں، جبکہ سفارتی حلقے امید ظاہر کر رہے ہیں کہ جاری مذاکرات کے ذریعے مزید تصادم کو روکا جا سکے گا۔