• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران اور امریکہ کی بڑھتی کشیدگی،جہاز میں آگ، آبنائے ہرمز بند، کیا دنیا کو نئے بحران کا سامنا ہے؟

ایران اور امریکہ کی بڑھتی کشیدگی،جہاز میں آگ، آبنائے ہرمز بند، کیا دنیا کو نئے بحران کا سامنا ہے؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 12, 2026 IST

ایران اور امریکہ کی بڑھتی کشیدگی،جہاز میں آگ، آبنائے ہرمز بند، کیا دنیا کو نئے بحران کا سامنا ہے؟
 
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران عمان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی کنٹینر بردار جہاز میں آگ لگ گئی۔ آگ لگنے کے بعد جہاز کے عملے نے اپنی حفاظت کے لیے جہاز چھوڑ دیا اور لائف بوٹ کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے ۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکہ نے ایک ہفتے میں تیسری بار ایران پر فوجی حملے کیے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو اگلے ہدایت تک بند رکھنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
 
برطانوی بحری یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق متاثرہ جہاز عمان کے مشرق میں موجود تھا۔  بتایا گیا کہ جہاز کے عملے نے حفاظتی اقدام کے طور پر جہاز چھوڑ دیا اور تمام افراد لائف بوٹ میں منتقل ہو گئے۔ برطانوی اہلکاروں  کے مطابق تمام عملہ بحفاظت جہاز سے نکلنے میں کامیاب رہا۔
 
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب قبرص کے جھنڈے والے کنٹینر جہاز (M/V GFS Galaxy )پر آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے حملہ کیا گیا۔ امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے کیا۔
 
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق حملے میں جہاز کے انجن والے حصے کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ امریکی فوج نے یہ بھی بتایا کہ جہاز کے ایک شہری عملے کا ایک فرد اب بھی لاپتہ ہے، جبکہ باقی عملہ محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
 
CENTCOM نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف اس ہفتے کی تیسری فوجی کاروائی شروع کی۔ امریکی فوج کے مطابق یہ حملے اس لیے کیے گئے کیونکہ ایران نے تجارتی جہاز پر حملہ کیا، حالانکہ اس سے پہلے ہونے والے مفاہمت (MoU) کے تحت ایران کو موقع دیا گیا تھا کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کرے۔
 
امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران اس معاہدے پر عمل کرنے میں ناکام رہا، اس لیے ایران کی ان طاقتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن کے ذریعے وہ تجارتی اور شہری جہازوں پر حملے کرتا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کاروائیاں امریکی صدر کے ہدایت پر کی جا رہی ہیں۔
 
امریکی وزیرِ دفاع پیٹے ہیگستھ(Pete Hegseth) نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ایران نے غلط فیصلہ کیا، اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
 
دوسری جانب جب ایران نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو اگلی ہدایت تک بند رکھا جائے گا۔ اس فیصلے سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی اسی راستے سے مختلف ممالک تک پہنچتی ہے۔
 
ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ مغربی ایشیا میں اپنی مداخلت بند نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گا ۔
 
IRGC نے اپنے بیان میں کہا کہ غیر ملکی طاقتوں کی "غیر قانونی مداخلت" کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے، اور اگلے ہدایت تک کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
 
 اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو نہ صرف عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ تیل اور گیس کی سپلائی پر بھی بڑا اثر پڑ سکتا ہے، جس سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔