Thursday, August 27, 2026 | 12 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • امریکہ میں ویزا انٹرویوز پر عارضی روک، درخواست گزاروں کو نئی تاریخوں کا انتظار

امریکہ میں ویزا انٹرویوز پر عارضی روک، درخواست گزاروں کو نئی تاریخوں کا انتظار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 26, 2026 IST

امریکہ میں ویزا انٹرویوز پر عارضی روک، درخواست گزاروں کو نئی تاریخوں کا انتظار
امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں ویزا درخواست گزاروں کے کئی انٹرویوز کو عارضی طور پر روک کر دوبارہ شیڈول کرنا شروع کر دیا ہے۔ پہلے سے مقرر انٹرویوز منسوخ یا تبدیل کیے جا رہے ہیں اور درخواست گزاروں کو نئی تاریخ اور وقت بعد میں بتانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس عارضی رکاوٹ کی بڑی وجہ امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے عملے کے لیے شروع کیا گیا ایک عالمی تربیتی پروگرام ہے۔  یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ امیگریشن اور ویزا نظام میں سخت جانچ پڑتال کر رہی ہے۔ 
 
ویزا انٹرویوز کیوں روکے گئے؟
 
رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے قونصلر افسران کے لیے ایک تربیتی پروگرام شروع کیا ہے۔ اس تربیت کا مقصد افسران کو ویزا درخواستوں کی زیادہ تفصیلی اور یکساں طریقے سے جانچ کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ حکام خاص طور پر یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ ویزا حاصل کرنے والے افراد مستقبل میں امریکی حکومت کی عوامی سہولیات اور مالی امداد پر زیادہ انحصار تو نہیں کریں گے۔ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ویزا درخواست گزاروں کے بارے میں یہ جائزہ امریکی قانون کے مطابق لیا جائے گا۔
 
جن لوگوں کا انٹرویو پہلے سے طے تھا، ان کا کیا ہوگا؟
 
جن افراد کے ویزا انٹرویوز پہلے سے مقرر تھے، انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کی اپائنٹمنٹ تبدیل کی جا رہی ہے۔ انہیں نئی تاریخ اور وقت کے بارے میں بعد میں اطلاع دی جائے گی۔  امریکی محکمہ خارجہ نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ انٹرویوز معمول کے مطابق کب دوبارہ شروع ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ویزا درخواستوں پر مستقل پابندی نہیں لگائی گئی، لیکن درخواست گزاروں کو کچھ عرصے کے لیے تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
 
ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟
 
یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وسیع تر امیگریشن پالیسی کا حصہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کاروائی کے ساتھ ساتھ قانونی امیگریشن کے عمل میں بھی زیادہ سخت جانچ شروع کی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے سرحدی نگرانی، ملک بدری، ویزا اسکریننگ اور پناہ گزینوں سے متعلق پالیسیوں کو سخت کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط کرنا اور امیگریشن نظام کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔
 
ویزا درخواست گزاروں کی مزید جانچ
 
امریکی حکومت نے بعض ویزا درخواست گزاروں کی آن لائن سرگرمیوں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ بھی بڑھائی ہے۔ خاص طور پر بعض غیر ملکی صحافیوں اور H-1B ویزا کے لیے درخواست دینے والے افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، لنکڈ اِن پروفائلز اور دیگر معلومات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جانچ کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا، دھوکہ دہی روکنا اور یہ دیکھنا ہے کہ درخواست گزار امریکی قوانین کی پابندی کریں گے یا نہیں۔
 
عوامی امداد پر انحصار بھی اہم مسئلہ
 
ٹرمپ انتظامیہ ویزا درخواستوں میں اس بات پر بھی توجہ دے رہی ہے کہ کوئی غیر ملکی شخص مستقبل میں امریکی حکومت کی مالی امداد پر بہت زیادہ انحصار تو نہیں کرے گا۔ اسے امریکی امیگریشن قوانین میں "پبلک چارج" کہا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں اس کا مطلب ہے کہ حکومت یہ دیکھتی ہے کہ آنے والا شخص اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوگا یا نہیں اور کیا وہ زیادہ تر سرکاری امداد پر منحصر ہو سکتا ہے۔
 
75 ممالک کے ویزوں سے متعلق پہلے بھی بڑا فیصلہ آیا
 
اس سے پہلے امریکی حکومت نے 75 ممالک سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے تارکین وطن کے ویزے جاری کرنے کا عمل بھی روک دیا تھا۔ حکومت نے اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ان ممالک کے درخواست گزاروں کے مستقبل میں عوامی امداد پر انحصار کرنے کا خطرہ زیادہ ہے۔  21 اگست کو ایک امریکی وفاقی جج نے اس پالیسی کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ خارجہ نے اپنے قانونی اختیار سے تجاوز کیا ہے۔ عدالت نے اس پالیسی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ صرف قومیت کی بنیاد پر ویزا مسترد یا روکنا درست نہیں سمجھا گیا۔
 
H-1B ویزا بھی سخت جانچ کی زد میں
 
ٹرمپ انتظامیہ نے ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے استعمال ہونے والے H-1B ویزا پروگرام پر بھی سختی کی ہے۔ انتظامیہ نے نئی H-1B درخواستوں کے لیے بہت زیادہ فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز کو قانونی چیلنجز کا سامنا ہے اور اس معاملے پر عدالت میں بھی کاروائی ہوئی ہے۔
 
آگے کیا ہوگا؟
 
فی الحال امریکی محکمہ خارجہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ دنیا بھر میں ویزا انٹرویوز کب مکمل طور پر معمول پر آئیں گے۔ جن افراد کی اپائنٹمنٹ متاثر ہوئی ہے، انہیں نئی تاریخ اور وقت کا انتظار کرنا ہوگا۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کو مزید قانونی چیلنجز کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ حالیہ عدالتی فیصلے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امریکی حکومت امیگریشن کے قوانین میں تبدیلیاں کرتے وقت عدالتوں کی جانب سے قانونی جانچ کا سامنا کر سکتی ہے۔