Saturday, May 09, 2026 | 21 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • تمل ناڈو میں حکومت سازی کو لیکر غیریقینی حالات برقرار: ٹی وی کے پرسنگین الزام

تمل ناڈو میں حکومت سازی کو لیکر غیریقینی حالات برقرار: ٹی وی کے پرسنگین الزام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 09, 2026 IST

تمل ناڈو میں حکومت سازی کو لیکر غیریقینی حالات برقرار: ٹی وی کے  پرسنگین الزام
تمل ناڈو میں حکومت سازی کو لیکر اب بھی غیریقینی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ اسمبلی انتخابات میں اداکار سے سیاستدان بننے والے وجئے کی پارٹی ٹی وی کے نے سب سے زیادہ 108 سیٹیں حاصل کی تاہم اسے اکثریت کیلئے مزید دس ارکان کی تائید کی ضرورت ہے۔ اس دوران کانگریس سی پی آئی اور سی پی آئی ایم نے ٹی وی کے کی حمایت کا اعلان کیاہے تاہم وی سی کے کی حمایت غیریقینی ہے۔ اگر وی سی کے وجئے کی حمایت کرتی ہے تو ٹی وی کے کی حکومت بننایقینی ہوجائے گا۔ اس سلسلہ میں آج دوپہر تک صورتحال واضح ہونے کا امکان ہے۔ 
 
تاہم اس دوران AMMK کے سربراہ ٹی ٹی وی دیناکرن نے وجے پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سیاسی میدان میں ہلچل مچا دی ہے۔
 
 دیناکرن کا وجے پر 'فریب دہی' کا الزام اور کیس درج:
 
AMMK کے جنرل سکریٹری ٹی ٹی وی دیناکرن نے وجے پر فرضی دستاویزات تیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ دیناکرن کا کہنا ہے کہ TVK نے ان کی پارٹی کے واحد رکنِ اسمبلی کامراج کا ایک 'فرضی حمایتی خط' گورنر کو سونپا ہے، جبکہ وہ اپنی پارٹی اور این ڈی اے (NDA) کے ساتھ متحد ہیں۔ انہوں نے صاف کہا کہ ان کی پارٹی TVK کو کوئی حمایت نہیں دے رہی۔
 
 TVK نے جاری کیا' کامراج' کا بیان
 
دیناکرن کے الزامات کے جواب میں وجے کی پارٹی TVK نے رکنِ اسمبلی کامراج کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو میں کامراج دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر اور اپنی مرضی سے TVK کی حمایت کر رہے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے پارٹی قیادت کو آگاہ کر دیا تھا۔ تاہم، دیناکرن نے اس ویڈیو اور حمایت دونوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
 
 AIADMK کی قیادت میں حکومت سازی کا جوابی دعویٰ
 
انتخابات کے نتائج آئے 4 دن بیت چکے ہیں لیکن تعطل برقرار ہے۔ ایک طرف وجے 8 مزید اراکین کی حمایت جٹا کر حکومت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو دوسری طرف دیناکرن نے AIADMK کی قیادت میں حکومت بنانے کا نیا دعویٰ پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے ایڈاپڈی کے پلانی سوامی کو وزیراعلیٰ کا امیدوار بتاتے ہوئے دیگر جماعتوں سے حمایت مانگی ہے۔
 
 ارکانِ اسمبلی کی 'خرید و فروخت' اور گمشدگی کا ڈرامہ
 
سیاسی ڈرامہ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب دیناکرن رات گئے گورنر ہاؤس (راج بھون) پہنچے۔ ان کے ہمراہ رکنِ اسمبلی کامراج بھی موجود تھے۔دیناکرن کا الزام ہے کہ وجے ان کے اراکین کو خریدنے اور توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے گورنر کو ایک خط سونپا جس میں کامراج کی جانب سے AIADMK کو حمایت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے قبل دیناکرن نے گنڈی تھانے میں کامراج کی 'لاپتہ' ہونے کی شکایت بھی درج کرائی تھی، جس کے بعد وہ اچانک سامنے آ گئے۔
 
تمل ناڈو کی سیاست اس وقت ریسارٹ پالیٹکس اور الزامات کے گرد گھوم رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گورنر بنواری لال پروہت سب سے بڑی پارٹی TVK کو موقع دیتے ہیں یا AIADMK اور دیگر جماعتوں کے اتحاد کو حکومت سازی کی دعوت ملتی ہے۔