امتحانی پیپر لیک کے معاملے پر جاری سیاسی اور عوامی دباؤ کے درمیان مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے مختلف طلبہ تنظیمیں اور کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) امتحانی نظام میں شفافیت اور احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہی تھیں۔
دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفے کا اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک تفصیلی پیغام کے ذریعے کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے ان کی پوری توجہ طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات پر مرکوز رہی ہے اور وہ ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک مضبوط، جامع اور جدید تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ملک کے نوجوانوں کی خواہشات، جذبات اور جائز توقعات کا احترام کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کی قیادت میں ملک کی خدمت کا موقع ملا، جسے وہ اپنی عوامی زندگی کا اہم اعزاز سمجھتے ہیں۔
دھرمیندر پردھان کے استعفے کو پیپر لیک تنازع کے تناظر میں ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے مختلف ریاستوں میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری تھا، جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اسی دوران جنتر منتر پر جاری احتجاج نے بھی اس معاملے کو مزید شدت دے دی۔
اگرچہ حکومت کی جانب سے ابھی تک نئے وزیر تعلیم کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو تعلیمی نظام میں اصلاحات اور احتساب کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ حکومت نئے وزیر تعلیم کی تقرری اور امتحانی نظام میں شفافیت لانے کے لیے آئندہ کیا اقدامات کرتی ہے۔