اناؤ ریپ کیس میں سزا یافتہ سابق رکن اسمبلی کلدیپ سینگر کو لے کر سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے دہلی ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ سینگر کی سزا معطل کرنے کے معاملے پر دوبارہ غور کرے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کو مرکزی اپیل کی سماعت دو ماہ کے اندر مکمل کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
یہ معاملہ 2017 کے اناؤ ریپ کیس سے متعلق ہے، جس میں ٹرائل کورٹ نے کلدیپ سینگر کو تعزیرات ہند کی دفعہ 376(1) اور پوکسو ایکٹ کی دفعہ 5(سی) کے تحت عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے اس وقت سینگر کو ایک “سرکاری ملازم” قرار دیتے ہوئے سخت دفعات لاگو کی تھیں۔
گزشتہ سال دسمبر میں دہلی ہائی کورٹ نے سینگر کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ایک رکن اسمبلی پوکسو ایکٹ کے تحت “سرکاری ملازم” کے زمرے میں نہیں آتا۔ اس فیصلے کو مرکزی تفتیشی بیورو نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگا دی تھی۔
جمعہ 15 مئی کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے “سرکاری ملازم” کی تعریف کو انتہائی تکنیکی انداز میں دیکھا گیا۔ مرکزی تفتیشی بیورو کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ ایک رکن اسمبلی اثر و رسوخ کا حامل عہدہ رکھتا ہے، اس لیے اس معاملے کو محدود قانونی تعریف تک نہیں دیکھا جا سکتا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ باغچی پر مشتمل بنچ نے ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ سزا معطلی کے معاملے پر دوبارہ غور کرے، تاہم اس دوران سپریم کورٹ کے مشاہدات سے متاثر نہ ہو۔
سماعت کے دوران سینگر کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل این ہری ہرن نے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ لڑکی نابالغ نہیں تھی اور آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر کئی رپورٹس بھی سینگر کے حق میں ہیں، اس کے باوجود وہ جیل میں ہیں۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ تمام دلائل دہلی ہائی کورٹ کے سامنے پیش کیے جائیں، جہاں اب اس معاملے پر دوبارہ سماعت ہوگی۔