• News
  • »
  • قومی
  • »
  • اتر پردیش : یوگی انتظامیہ کی کاروائی ، عیدگاہ اور امام باڑہ مسمار

اتر پردیش : یوگی انتظامیہ کی کاروائی ، عیدگاہ اور امام باڑہ مسمار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 16, 2026 IST

اتر پردیش : یوگی انتظامیہ کی کاروائی ، عیدگاہ اور امام باڑہ  مسمار
 
اتر پردیش کے سنبھل میں ایک بار پھر بلڈوزر کی کاروائی دیکھنے میں آئی ہے۔جہاں ، آج ایک عیدگاہ اور ایک امام باڑہ کو بلڈوز کر دیا گیا۔
 
خیال رہے کہ اتر پردیش  میں آئے روز یوگی حکومت مسلسل مسلمانوں کی مذہبی جگہوں اور مدرسوں کو غیر قانونی قرار دے کر ڈیمولیشن کی کاروائی کر رہی ہے۔ اسی ماہ 5 اپریل کو سنبھل انتظامیہ نے اسمولی تھانہ علاقے کے تحت مبارک پور بند گاؤں میں مسجد، مدرسہ اور کئی مسلمانوں کی دکانوں کو توڑ دیا تھا۔
 
اسی طرح کی کاروائی جمعرات 16 اپریل کو بھی سنبھل میں دیکھنے کو ملی، جب ضلعی انتظامیہ کی ٹیم بھاری پولیس فورس کے ساتھ گاؤں وچھولی پہنچی اور چند ہی گھنٹوں میں بلڈوزر کی گونج کے درمیان عیدگاہ اور امام باڑے کو مسمار کر دیا۔ انتظامیہ نے اس کاروائی کے بارے میں بتایا کہ یہ تعمیر سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ کر کے کی گئی تھی۔ انتظامیہ کی آئے روز بلڈوزر کاروائی، خاص طور پر مسلمان آبادی والے علاقوں، ان کی مذہبی جگہوں اور مدرسوں پر ہونے سے لوگ دہشت میں ہیں۔
 
غیر قانونی طور پر سرکاری زمین پر تعمیر کیا گیا تھا:
 
پورا معاملہ سنبھل تحصیل کے مسلمان اکثریتی گاؤں وچھولی کا ہے، جہاں انتظامیہ کے مطابق کھاد کے گڑھوں اور جانوروں کی چراغاہ کے لیے ریزرو سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ کر کے عیدگاہ اور امام باڑے کی تعمیر کر لی گئی تھی۔ اس عیدگاہ میں عید اور بقر عید پر نماز ادا کی جاتی تھی، جبکہ امام باڑے میں مذہبی پروگرام منعقد کیے جاتے تھے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ عیدگاہ اور امام باڑا کئی سال پرانا ہے، اس کے باوجود انتظامیہ نے اسے غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیا۔
 
سنبھل تحصیل کی نائب تحصیلدار ندھی پٹیل کے مطابق، انتظامیہ کو اس قبضے کی اطلاع ملنے کے بعد محاصلہ محکمے سے پورے معاملے کی جانچ کرائی گئی۔ جانچ میں یہ تصدیق ہوئی کہ متعلقہ زمین سرکاری ہے اور اس پر بغیر اجازت تعمیر کی گئی تھی، اور اس کا استعمال مذہبی پروگراموں کے لیے کیا جا رہا تھا۔ اس کے بعد تحصیلدار کی طرف سے غیر قانونی قبضہ ہٹانے اور تعمیر کو مسمار کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ حکم کے خلاف کسی قسم کی اپیل سامنے نہیں آئی۔
 
انتظامیہ اور بلڈوزر دیکھ مسلمانوں میں دہشت!  
 
ملی معلومات کے مطابق، جمعرات (16 اپریل 2026) کو صبح تقریباً 8 بجے انتظامیہ کی ٹیم چار جے سی بی مشینوں کے ساتھ گاؤں پہنچی۔ ان کے ساتھ پولیس، ریپڈ ایکشن فورس اور پی اے سی کے جوان بھی موجود تھے تاکہ کسی قسم کی افراتفری نہ ہو۔ اچانک بلڈوزر اور انتظامیہ کے عملے کے پہنچنے سے گاؤں میں افراتفری مچ گئی۔ انتظامیہ نے گاؤں میں پہنچ کر سب سے پہلے عیدگاہ کے ڈھانچے کو گرایا اور پھر سخت سیکورٹی کے درمیان تین جے سی بی کی مدد سے امام باڑے کو بھی مکمل طور پر مسمار کر دیا۔
 
سنبھل میں مختلف علاقوں میں بلڈوزر ایکشن جاری ہے  :
 
اس سال یہ پہلی بار نہیں ہے جب سنبھل میں مسلمانوں سے متعلق جگہوں پر بلڈوزر کارروائی کی گئی ہو۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر کاروائیاں ان جگہوں پر کی گئیں جہاں انتظامیہ نے سرکاری یا گرام سوسائٹی کی زمین پر غیر قانونی قبضے کا الزام لگایا۔ ان کاروائیوں میں مساجد، مدرسے، دکانیں اور گھر جیسی کئی اہم جگہیں ڈیمولش کر دی گئیں۔