وجے دیوراکونڈا آج جنوبی ہند کی فلم انڈسٹری کے مقبول ترین اداکاروں میں شمار کیے جاتے ہیں، لیکن کامیابی حاصل کرنے سے پہلے انہوں نے اپنی زندگی میں شدید جدوجہد، ناکامیوں اور غیر یقینی حالات کا سامنا کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر ایک مخصوص عمر تک کامیابی نہ ملی تو وہ اداکاری کا خواب ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں گے۔
وجے دیوراکونڈا 9 مئی 1989کو حیدرآباد میں ایک تیلگو خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گووردھن راؤ ٹیلی ویژن سیریلز سے وابستہ تھے جبکہ والدہ مادھوی گھریلو خاتون ہیں۔ وجے نے ابتدائی تعلیم پوٹاپرتھی کے بورڈنگ اسکول سے حاصل کی اور بعد میں حیدرآباد میں اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ بچپن ہی سے انہیں اداکاری اور فلموں کا بے حد شوق تھا، حالانکہ خاندان چاہتا تھا کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کسی اچھی ملازمت کا انتخاب کریں۔
2011 میں وجے نے فلم نوویلا سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا، لیکن یہ فلم کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کے بعد وہ لائف از بیوٹی فل میں نظر آئے، مگر یہ فلم بھی انہیں خاطر خواہ شہرت نہ دلا سکی۔ مسلسل ناکامیوں کے بعد تقریباً دو سال تک انہیں کوئی کام نہیں ملا اور وہ گھر پر بیکار بیٹھے رہے۔ اس دوران خاندان کے افراد ان کے مستقبل کے بارے میں پریشان رہنے لگے اور انہیں اداکاری چھوڑنے کا مشورہ دیا جانے لگا۔ یہاں تک کہ ان کی بہن نے ان کے لیے ایم بی اے پروگرام کے فارم بھی بھر دیے تھے۔
اسی مشکل دور میں وجے نے اپنے لیے ایک آخری حد مقرر کی۔ انہوں نے طے کر لیا تھا کہ اگر مخصوص عمر تک کامیابی حاصل نہ ہوئی تو وہ فلمی دنیا چھوڑ دیں گے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ جدوجہد کے وہ دن آج بھی انہیں خوفزدہ کر دیتے ہیں۔ یہی خوف اور دباؤ ان کے لیے مسلسل محنت کی سب سے بڑی وجہ بنا۔
2015 میں فلم یوادے سبرامنیم میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا، لیکن اصل کامیابی 2016 کی فلم پیلی چوپولو سے ملی، جس نے انہیں انڈسٹری میں مضبوط پہچان دلائی۔ اس کے بعد 2017 میں ریلیز ہونے والی فلم ارجن ریڈی نے وجے دیوراکونڈا کو راتوں رات سپر اسٹار بنا دیا۔ اس فلم میں ایک غصے اور ٹوٹے دل والے سرجن کے کردار نے ناظرین کو بے حد متاثر کیا اور فلم نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی۔
ارجن ریڈی کے بعد وجے نے گیتھا گووندم، مہانتی، ٹیکسی والا اور ڈیئر کامریڈ جیسی کامیاب فلموں میں کام کیا۔ بعد ازاں انہوں نے فلم لائگر کے ذریعے بالی ووڈ میں بھی قدم رکھا۔