Thursday, May 14, 2026 | 26 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • تمل ناڈو :کابینہ میں ایک بھی مسلم وزیر نہ ہونے پر تھلاپتی وجے کی 'حکومت'کو سخت تنقیدکا سامنا

تمل ناڈو :کابینہ میں ایک بھی مسلم وزیر نہ ہونے پر تھلاپتی وجے کی 'حکومت'کو سخت تنقیدکا سامنا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 14, 2026 IST

 تمل ناڈو :کابینہ میں ایک بھی مسلم وزیر نہ ہونے پر تھلاپتی وجے کی 'حکومت'کو سخت تنقیدکا سامنا
تمل ناڈو اسمبلی انتخابات 2026 میں شاندار جیت درج کر کے اقتدار سنبھالنے والے اداکار سے سیاست دان بنے سی جوزف وجے (تھلاپتی وجے) اپنی پہلی ہی کابینہ کی تشکیل پر اپوزیشن اور اتحادیوں کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ اسمبلی میں اپنی حکومت کو 'اقلیتوں کی حکومت' قرار دینے والے وزیر اعلیٰ وجے اب اس بات پر گھر گئے ہیں کہ ان کے طاقتور ترین وزراء کی فہرست میں ایک بھی مسلم چہرہ شامل نہیں ہے۔
 
منی تھنیریا مکل کاچی (MMK) کے سینئر لیڈر اور رکن اسمبلی ایم ایچ جواہر اللہ نے ٹی وی کے (TVK) حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ جس اتحاد نے 144 اراکین کی حمایت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، اس کی کابینہ میں مسلم نمائندگی صفر ہے۔
 
جواہر اللہ نے ریاست کی سیاسی تاریخ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ کے کامراج سے لے کر ایم کے اسٹالن تک، ہر دور میں مسلم وزراء کو جگہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کامراج کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب ابتدا میں کوئی مسلم وزیر نہیں تھا، تو سی این انا دورائی کے احتجاج کے بعد ایس ایم عبدالمجید کو کابینہ میں شامل کیا گیا تھا۔
 
قابل ذکر امیدواروں کی موجودگی کے باوجود نظر اندازی:
 
 
ٹی وی کے کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے مسلم ایم ایل ایز میں آئی تاہر، محمد فرواز جے اور مادر بدردین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹی وی کے کی اتحادی کانگریس پارٹی کے پاس بھی ایک مسلم ایم ایل اے جمال محمد یونس وائی این ہیں۔ جبکہ انڈین یونین مسلم لیگ نے بغیر کسی وزیر کے عہدے کا مطالبہ کیے حکومت کو حمایت دی ہے۔ پارٹی کے دو مسلم ایم ایل اے سید فاروق باشا ایس ایس بی اور اے ایم شاہ جہاں اس بار اسمبلی پہنچے ہیں۔
 
جواہر اللہ نے کہا کہ تمل ناڈو میں مسلمان سب سے بڑا اقلیتی کمیونٹی ہے اور انہیں کیبنٹ میں نمائندگی ملنی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ریاستی سیاست میں ہمیشہ ایک روایت رہی ہے۔ کے کامراج، ایم کرونانیدھی، ایم جی رامچندرن اور ایم کے اسٹالن کی حکومتوں میں مسلمان وزراء کو جگہ دی جاتی رہی ہے۔
 
 "اقلیتوں کی حکومت" کے دعوے پر سوال:
 
مکتوب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، جواہر اللہ نے وزیر اعلیٰ کے اس بیان کو تضاد قرار دیا جس میں انہوں نے خود کو اقلیتوں کا ہمدرد بتایا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اپنی غلطی کی اصلاح کرے اور فوری طور پر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کسی رکن کو کابینہ میں جگہ دے، تاکہ ریاست کی سیکولر روایت برقرار رہ سکے۔
 
یاد رہے کہ 2026 کے انتخابات میں 108 نشستیں جیتنے والی TVK نے بیرونی حمایت کے ساتھ تمل ناڈو میں پہلی بار اپنی حکومت بنائی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ وجے اس سیاسی دباؤ کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔