عقیدت، روحانیت اور گنگا ماں کی پاکیزگی کی علامت مانے جانے والے تاریخی شہر وارانسی (کاشی) سے ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ گنگا ندی کے بیچوں بیچ ایک چلتی ہوئی کشتی پر مبینہ طور پر تندوری چکن بنانے اور بیئر کی بوتلیں کھولے جانے کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کاشی کے شہریوں اور عقیدت مندوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید سیاسی اور سماجی رنگ اختیار کر گیا جب سوشل میڈیا پر یہ دعوے کیے جانے لگے کہ جس کشتی پر یہ سب ہو رہا تھا، وہ مبینہ طور پر ایک مقامی بی جے پی کونسلر سے وابستہ ہے۔ اس دعوے کے بعد اب عوام اور انتظامیہ کے سامنے یہ بڑا سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟
دوہرے معیار پر عوامی سوالات
اس تنازعے نے چند ماہ پرانے ایک واقعے کی یاد تازہ کر دی ہے، جس کے بعد انتظامیہ پر دوہرے معیار کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ چند ماہ قبل رمضان کے مقدس مہینے میں گنگا ندی پر افطار کے ایک پروگرام کو لے کر شدید تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔ اس وقت انتظامیہ نے فوری اور سخت ایکشن لیتے ہوئے کئی مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور کشتی کو بھی ضبط کر لیا تھا۔ عوام اب یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ اگر ماضی میں مذہبی جذبات اور ندی کے تقدس کے نام پر اتنی سخت اور تیز رفتار کارروائی کی گئی تھی، تو موجودہ واقعے پر اب تک خاموشی کیوں ہے؟ شہریوں کا پوچھنا ہے کہ کیا اگر یہی کام کسی عام آدمی، غریب یا دوسری برادری کے شخص نے کیا ہوتا، تو اب تک ٹی وی چینلز اور انتظامیہ کا رخ یہی ہوتا؟
آئین اور انصاف کا ترازو
یہ بحث کسی مخصوص مذہب کے حق یا خلاف نہیں ہے، بلکہ یہ برابری اور اس اعتماد کی بات ہے جو ایک عام شہری ملک کے آئین اور قانون پر کرتا ہے۔ قانون کی آنکھوں پر پٹی اس لیے باندھی جاتی ہے تاکہ وہ چہرے اور اثر و رسوخ نہ دیکھے، بلکہ صرف سچ اور جرم کو دیکھے۔
کاشی کی گلیوں میں ایک ہی سوال: انصاف یا طاقت کا اثر؟
کاشی کے مقامی لوگوں اور سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ قانون کی اصل آزمائش تبھی ہوتی ہے جب سامنے کوئی طاقتور یا بااثر شخصیت کھڑی ہو۔ اگر ایک جیسے جرم پر ایک جگہ فوری کارروائی اور دوسری جگہ خاموشی اختیار کی جائے، تو انصاف اپنا وقار کھو دیتا ہے۔ عوام اب حکومت، مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے صرف ایک ہی جواب چاہتی ہے کہ کیا قانون کا ترازو سب کے لیے برابر ہے؟ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ گنگا کے تقدس کو پامال کرنے والے اس واقعے کی بھی غیر جانبدارانہ انکوائری ہونی چاہیے اور قصورواروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ عوام کا قانون پر بھروسہ قائم رہ سکے۔