امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری جنگ کے حوالےسے بدھ کی رات 9 بجے (بھارتی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح ساڑھے 6 بجے) قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی جنگ ختم ہو جائے گی کیونکہ ہم جنگ کے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
ایران کو جوہری ہتھیار کبھی نہیں بنانے دیں گے:
ٹرمپ نے کہا، ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ میں نے 2015 سے ہی واضح کر دیا تھا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں تمام بڑے رہنما مارے جا چکے ہیں اور امریکی فوج کا آپریشن جاری ہے۔ ایرانی فوج اب ان کے کنٹرول میں ہے۔انہوں نے پچھلی امریکی حکومتوں پر الزام لگایا کہ انہی کی وجہ سے یہ جنگ شروع ہوئی۔
آبنائے ہرموزکو کھولنے کا فیصلہ دنیا خود کرے:
ٹرمپ نے آبنائے ہرموزکے بارے میں کہا کہ دنیا کو خود سوچنا ہوگا کہ اسے کیسے کھولا جائے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ مشکل کام مکمل ہو چکا ہے اور اب ہرموز خود بخود مناسب وقت پر کھل جائے گا۔ انہوں نے گیس اور تیل کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مستقبل میں قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ امریکہ سے تیل خریدیں۔
ہم نے ایران میں رجیم چینج کبھی نہیں چاہا:
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ ایران کا حکمران تبدیل ہو، لیکن وہاں کے سپریم لیڈر سمیت کئی اعلیٰ رہنما مارے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران میں سخت گیر رہنماؤں کو اپنی مرضی چلانے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ان سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا اور آنے والے دنوں میں مزید سخت اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
2 سے 3 ہفتوں میں جنگ مزید شدید ہوگی:
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران جنگ ختم کرنے پر کوئی معاہدہ نہیں کرتا تو وہ ایران کو "پتھر کے زمانے" میں واپس لے جائیں گے اور اگلے 2 سے 3 ہفتوں میں جنگ مزید شدید ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا، جنگ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی دشمن کو صرف چند ہفتوں میں اتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہو۔ ہمارے دشمن ہار رہے ہیں اور پچھلے 5 سالوں کی طرح میرے دور میں امریکہ جیت رہا ہے۔
ٹرمپ کا دعویٰ:
اس سے پہلے بدھ کی صبح ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے صدر نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ایران کے نئے حکمران، جو اپنے پیشروؤں سے کم سخت گیر اور زیادہ ذہین ہیں، نے ابھی امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ ہم اس پر تبھی غور کریں گے جب آبنائے ہرموز مکمل طور پر کھلا، آزاد اور محفوظ ہو جائے گا۔
جنگ کا پس منظر
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ اسی دن بڑے حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ فوجی افسران اور رہنما مارے گئے۔ ایران میں اب تک 1,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں میناب کے ایک اسکول میں ماری گئیں 175 طالبات بھی شامل ہیں۔ امریکہ نے اب تک 13 فوجی کھوئے ہیں۔