پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس آج سے شروع ہو گیا ہے، جس میں خواتین کے ریزرویشن سمیت تینوں بل لوک سبھا میں پیش کئے گئے۔مرکزی حکومت کی طرف سے بلائے گئے اس اجلاس کا مرکزی مسئلہ آئین ترمیمی بل ہے، جس کا مقصد لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کرنا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن نے حدبندی کی مخالفت کی ہے۔ ایوان کی کاروائی شروع ہوتے ہی کانگریس نے کہا کہ حکومت آئین کو ہائی جیک کر رہی ہے۔ ڈی ایم کے کے اراکین پارلیمنٹ کالے کپڑوں میں پارلیمنٹ پہنچے۔
حکومت نے کون سے تین بل پیش کیے؟
مرکزی حکومت جو تین بل لائی ہے، ان میں آئین (131ویں ترمیم) بل، حدبندی (ترمیم) بل اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیم) بل، 2026 شامل ہیں۔ آئین (131ویں ترمیم) بل میں لوک سبھا کی نشستیں 850 کرنے کی تجویز ہے، جس سے خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کا راستہ کھلے گا۔ حدبندی (ترمیم) بل میں حدبندی کمیشن کے قیام اور نئی مردم شماری کی بنیاد پر نشستیں تقسیم کرنے کا انتظام ہے۔ تیسرے بل میں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین میں ترمیم کا پروویژن ہے۔
اپوزیشن نے حکومت کی نیت پر سوالات اٹھائے، مخالفت شروع
اپوزیشن انڈیا اتحاد نے ایک زبان میں حکومت کے بلائے گئے اجلاس اور اس میں پیش کیے جانے والے بلوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بدھ کو کانگریس صدر ملّکارجن کھڑگے کے گھر پر اتحاد کی میٹنگ ہوئی، جس میں تمام اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ شریک ہوئے۔ میٹنگ کے بعد کھڑگے نے صحافیوں سے کہا کہ اپوزیشن خواتین ریزرویشن کے خلاف نہیں ہے اور وہ ہمیشہ سے اس کی حمایت میں رہا ہے، لیکن حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کی مخالفت کریں گے۔
وزیر اعظم کا بیان
آج سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ہمارا ملک خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تاریخی قدم اٹھانے جا رہا ہے۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کا احترام قوم کا احترام ہے اور اسی جذبے کے ساتھ ہم اس سمت میں پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
اسٹالن نے بل کی کاپیاں جلا دیں
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے بل کی کاپیاں جلا دیں۔ اسٹالن نے حدبندی بل کو 'کالا قانون' قرار دیا اور الزام لگایا کہ یہ تمل لوگوں کو ان کی ہی سرزمین پر 'مہاجر' بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا، "آج میں نے اس کالے قانون کی کاپی جلا کر اور کالا جھنڈا لہرا کر اس آگ کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔ یہ آگ پورے دراوڑی علاقے میں پھیل جائے گی۔ یہ بھڑکے گی اور بی جے پی کے غرور کو گھٹنوں پر لے آئے گی۔"
کیرن رجیجو نے کہا — ریاستوں کی نمائندگی پہلے جیسی ہی رہے گی
مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے کہا کہ بلوں کے منظور ہونے کے بعد بھی تمام ریاستوں کی متناسب نمائندگی پہلے جیسی ہی رہے گی۔ انہوں نے کہا، "پارلیمنٹ میں اس بات کو واضح کیا جائے گا۔ خواتین ریزرویشن کو کسی بھی طرح کے سیاسی ایجنڈے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی اسے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بل پہلے ہی پاس ہو چکا ہے، اب صرف اسے نافذ کرنے کا معاملہ ہے۔"