ورلڈ دمہ ڈے کے موقع پر ماہرینِ صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دمہ (استھما) ایک قابلِ کنٹرول بیماری ہے اور اس کے علاج میں انہیلرز سب سے مؤثر اور محفوظ طریقہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق معاشرے میں دمہ سے متعلق کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جو مریضوں کو خوف اور الجھن میں مبتلا کرتی ہیں۔
ایک خصوصی پروگرام میں ماہر پھیپھڑوں کے امراض نے بتایا کہ دمہ دراصل پھیپھڑوں کی نالیوں میں سوزش اور تنگی پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، جس کے باعث سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیلرز براہِ راست پھیپھڑوں تک دوا پہنچاتے ہیں، اس لیے یہ علاج زیادہ مؤثر ہوتا ہے اور اس کے مضر اثرات بھی نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔
ماہرین نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ انہیلرز کے استعمال سے عادت پڑ جاتی ہے یا یہ گردوں، دل یا دیگر اعضا کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق انہیلرز میں دوا کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے اور یہ صرف متاثرہ حصے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
پروگرام میں بتایا گیا کہ دمہ صرف بچوں کی بیماری نہیں بلکہ کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے۔ آلودگی، دھواں، خوشبوئیں، گرد و غبار اور ٹھنڈی اشیاء اس کے اہم محرکات ہیں۔ حتیٰ کہ حاملہ خواتین میں بھی دمہ کی شدت بڑھ سکتی ہے، تاہم اس دوران بھی انہیلرز کا استعمال محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ دمہ کا مکمل علاج بعض صورتوں میں ممکن ہے، خاص طور پر الرجی سے متعلق دمہ میں، جبکہ دیگر اقسام میں باقاعدہ علاج اور احتیاط سے بیماری کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مریض خود علاج کرنے کے بجائے مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ ہر کھانسی یا سانس کی تکلیف دمہ نہیں ہوتی۔
مزید برآں، دمہ کو لے کر معاشرتی رویوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ بیماری نہ تو متعدی ہے اور نہ ہی زندگی کے معمولات کو مکمل طور پر محدود کرتی ہے۔ مناسب علاج کے ساتھ مریض نارمل زندگی گزار سکتے ہیں، حتیٰ کہ کھلاڑی بھی اس بیماری کے باوجود کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔
آخر میں ماہرین نے عوام کو پیغام دیا کہ دمہ سے ڈرنے کے بجائے اس کو سمجھیں، بروقت تشخیص اور درست علاج اختیار کریں، اور مریضوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ صحیح معلومات ہی اس بیماری سے نمٹنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
قارئین دمہ اور نظام تنفس پر ڈاکٹر کی مکمل بات چیت یہاں دیکھئےسکتےہیں۔