Monday, September 07, 2026 | 23 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • سہارنپور مسجد کے ملبے سے 20 فٹ گہرا کنواں برآمد، اے ایس آئی نے شروع کی جانچ

سہارنپور مسجد کے ملبے سے 20 فٹ گہرا کنواں برآمد، اے ایس آئی نے شروع کی جانچ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 07, 2026 IST

سہارنپور مسجد کے ملبے سے 20 فٹ گہرا کنواں برآمد، اے ایس آئی نے شروع کی جانچ
سہارنپور کلکٹریٹ کمپلیکس میں مسجد کے انہدام کے بعد ملبہ ہٹانے کے دوران تقریباً 20 فٹ گہرا اور ڈیڑھ میٹر چوڑا کنواں سامنے آیا ہے۔ کنویں کی دریافت کے بعد اس کی عمر، تاریخ اور اصل تعمیر سے متعلق سوالات اٹھ گئے ہیں۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا یعنی اے ایس آئی کی ٹیم کو موقع پر بلایا ہے۔ اے ایس آئی کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور کنویں سے نمونے بھی جمع کیے ہیں۔ ان نمونوں کی جانچ کے بعد یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے گی کہ کنواں کتنا پرانا ہے اور اسے کس دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ فی الحال اس کی صحیح عمر کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔
 
کنویں کی ملکیت اور اس کے اصل تعلق کو لے کر مختلف فریقوں کے درمیان پہلے ہی اختلاف موجود ہے۔ ملبہ صاف ہونے کے بعد کنویں کا ڈھانچہ سامنے آیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ کنویں کے اوپر مسجد کا ڈھانچہ تعمیر کیا گیا تھا، جبکہ کنویں کو اوپر سے بند یا سیل کر دیا گیا تھا۔ اسی بنیاد پر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا کنواں مسجد کی تعمیر سے بھی پہلے کا ہے۔ مسجد کے انہدام کے بعد ملبہ ہٹاتے وقت ایک سلیب نظر آئی۔ جب اسے کاٹا گیا تو اس کے نیچے کنواں موجود ملا۔ دریافت کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد سہارنپور کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ سبودھ کمار نے موقع کا دورہ کیا اور کنویں کی تاریخی حیثیت جاننے کے لیے اے ایس آئی کو اطلاع دی۔
 
معائنے کے دوران سٹی مجسٹریٹ بھی اے ایس آئی کی ٹیم کے ساتھ موجود رہے۔ انتظامیہ اب کنویں سے متعلق شواہد کو محفوظ رکھنے پر خاص توجہ دے رہی ہے، تاکہ تحقیق کے دوران کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔ کنویں کی نگرانی کے لیے پہلے ہی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق کنٹرول روم سے کیمروں کے ذریعے جائے وقوعہ پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ کلکٹریٹ کمپلیکس میں اضافی پولیس فورس بھی تعینات کی گئی ہے اور فی الحال عام لوگوں کی اس علاقے تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔
 
یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہو گیا ہے کیونکہ مسجد کی قانونی حیثیت کو لے کر پہلے ہی تنازع چل رہا تھا۔ سال 2025 میں بجرنگ دل کے علاقائی کنوینر وکاس تیاگی نے سٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے کلکٹریٹ کمپلیکس میں موجود مسجد کو مبینہ طور پر غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد سٹی مجسٹریٹ نے ڈھانچے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اب کنویں کی دریافت نے اس تنازع میں ایک نیا پہلو شامل کر دیا ہے۔ تاہم کنویں کی اصل عمر، تعمیر کا مقصد اور اسے کس نے تعمیر کیا، ان سوالات کا حتمی جواب اے ایس آئی کی تحقیقات اور سائنسی جانچ کے بعد ہی سامنے آنے کی توقع ہے۔