Monday, September 07, 2026 | 23 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • ایران کا آبنائے ہرمز پر پابندی کا نیا منصوبہ

ایران کا آبنائے ہرمز پر پابندی کا نیا منصوبہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 07, 2026 IST

ایران کا آبنائے ہرمز  پر پابندی کا نیا منصوبہ
ایران نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک نیا "پابندی والا زون" بنانے کا اعلان کرے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں داخل ہونے والے ایسے جہازوں کے خلاف کاروائی کی جا سکتی ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ اعلان ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے اتوار کو ایران کے سرکاری ٹی وی پر اس منصوبے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیا زون آنے والے دنوں یا ہفتوں میں بنایا جائے گا۔
 
ایرانی سکیورٹی چیف محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کے ذریعے ایک نئے کوریڈور سے متعلق معاہدہ کریں گے۔ اس کوریڈور کے داخلے اور اخراج کے مقامات ایران کے کنٹرول میں ہوں گے۔ایرانی سکیورٹی حکام کے مطابق ایران اور عمان آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کے ذریعے ایک نئے سمندری کوریڈور کے معاہدے پر دستخط کریں گے، جس کے داخلے اور اخراج کے مقامات ایران کے کنٹرول میں ہوں گے۔محسن رضائی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہے اور ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے۔
 
محسن رضائی کے مطابق یہ علاقہ امریکی بحری ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہوگا اور آبنائے ہرمز کی طرف جائے گا، جبکہ اس کا کچھ حصہ خلیج فارس تک پھیلے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے ارادے سے اس علاقے میں داخل ہوگا، اسے ایران کی پابندیوں والی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
 
 ایران نے ابھی یہ واضح نہیں کیا ہے کہ یہ نیا زون کہاں سے شروع ہوگا اور اس کے اندر جہازوں پر کس طرح کی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ یہ اعلان ایک دن بعد سامنے آیا جب امریکہ نے تین ایرانی تیل کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ یہ کاروائی ایران کی جانب سے امریکی جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی۔
 
امریکی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے حملوں کے بعد امریکی بحری جہازوں نے ایرانی تیل کے تین ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب ایران نے بھی امریکی بحری جہازوں اور آبنائے ہرمز کے راستے سے گزرنے والے کچھ جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
 
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کے قریب بحری ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق 20 سے زیادہ جنگی جہاز اس کاروائی میں شامل ہیں۔ امریکی معلومات کے مطابق اب تک 92 تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل کیا گیا ہے جبکہ تین جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان گزشتہ ہفتے دوبارہ لڑائی شروع ہوئی۔ اس سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان تقریباً ایک ماہ تک حالات نسبتاً پرسکون رہے تھے۔ اب آبنائے ہرمز ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا اہم مرکز بن گئی ہے۔
 
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کچھ جہازوں کے خلاف کاروائی جاری رکھنے کا بھی اشارہ دیا ہے۔ ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک امریکی بغیر پائلٹ بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔  امریکی فوج نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا ہے۔ ایران پر امریکی اقتصادی دباؤ بھی جاری ہے۔ امریکہ ایرانی تیل کی برآمدات کو روکنے اور ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری طرف ایران کا کہنا ہے کہ پابندیوں اور دباؤ کے باوجود اس کی تیل کی پیداوار اور تجارت جاری ہے۔
 
محسن رضائی نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کرنے والے پاکستان، قطر اور عمان کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق ایران کو امید تھی کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمت کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو ثالثی کرنے والے ممالک مداخلت کریں گے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ اس راستے سے روزانہ تقریباً 90 لاکھ بیرل تیل گزر رہا ہے۔ مختلف شپنگ ذرائع کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ دنوں میں اس راستے سے گزرنے والے تیل کی مقدار اس سے کم رہی ہے۔
 
رائٹ کے مطابق خطے کی پائپ لائنوں سے بھی تیل منتقل ہو رہا ہے اور مجموعی طور پر تیل کی ترسیل جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے تقریباً دو تہائی یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایران کے نئے پابندی والے زون کے اعلان سے آبنائے ہرمز میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا بھر میں تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے اہم ہے۔
 
رپورٹ کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کے باعث ایران کی خام تیل کی برآمدات میں بہت بڑی کمی آئی ہے۔ مارچ میں تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہو کر اگست میں ایران کی خام تیل کی لوڈنگ تقریباً 2.2 سے 2.55 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی تھی۔