اترپردیش کے وارانسی میں تقریباً 200 سال قدیم ایک مسجد کو شہید کردیا گیا۔ یہ مسجد منگل کی رات اچانک مسمار کر دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ کاشی ریلوے اسٹیشن کی تعمیر نو کے لیے زمین حاصل کی جا رہی ہے۔ اسی کے تحت اس علاقے کی مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔وارانسی انتظامیہ نے مجوزہ کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن پروجیکٹ کے لیے اراضی کلیئرنس مہم کے ایک حصے کے طور پر منگل کی آدھی رات کے فوراً بعد راج گھاٹ کے علاقے میں تقریباً 200 سال پرانی عجائب شہید مسجد کو شہید کردیا۔
علاقے کو سیل کر کی گئی کاروائی
علاقہ میں انہدامی کاروائی سے قبل اے سی پی شیوہاری مینا اور دیگرعہدیداروں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ مسجد کے چاروں طرف رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں اورعلاقے کو سیل کر دیا گیا۔ آپریشن کے لیے پانچ بلڈوزر استعمال کئے گئے،جو تقریباً 42 فٹ اونچے عبادت گاہ کو زمین دوز کردیا۔ کاروائی کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 1000 پولیس اور پی اے سی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال، اے ڈی سی پی ویبھو بنگر اور اے سی پی وجے پرتاپ سمیت کئی سینئر افسران موجود تھے۔ ملبہ کو رات کے وقت ہی ٹرکوں میں صاف کرکے ہٹایا گیا۔
مسجد، قبرستان پرچلا بلڈوزر
عجائب شہید مسجد اور اس سے ملحقہ قبرستان وارانسی میں بھداو چونگی کے قریب قلعہ کوہنا علاقے میں واقع ہے۔ مسلم کمیونٹی کے ارکان کا دعویٰ ہے کہ مسجد تقریباً 200 سال پرانی تھی۔انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ زمین ریلوے کی ہے اور اس کا الزام ہے کہ اس جگہ پر پہلے ایک مزار قائم کیا گیا، اس کے بعد مسجد اور قبرستان کی تعمیر کی گئی۔
ریلوے زمین پرناجائز تعمیر کا الزام
یہ تنازعہ 2024 میں اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن پروجیکٹ کے لیے زمین کی پیمائش کی گئی۔ حکام کے مطابق، سروے میں ریلوے کی زمین پر تجاوزات کا انکشاف ہوا، جس سے ریلوے نے اس جگہ پر دوبارہ دعویٰ کرنے کے لیے کاروائی
شروع کی۔
انتظامیہ نے رات دیرکی کاروائی
اس کے بعد معاملہ عدالت میں پہنچا، جہاں حال ہی میں مسجد سے وابستہ متولی (نگران) کیس ہار گئے۔ ریلوے نے بعد میں ایک نوٹس جاری کیا جس میں قابضین کو زمین خالی کرنے کی ہدایت کی گئی، لیکن حکام نے کہا کہ اس حکم کی تعمیل نہیں کی گئی۔ جس کے بعد انتظامیہ نے منگل کی رات دیر گئے انہدام کا کام کیا۔