Monday, September 07, 2026 | 23 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • دہلی ستیہ نکیتن میں 50 سال پرانی عمارت منہدم، 6 افراد جاں بحق

دہلی ستیہ نکیتن میں 50 سال پرانی عمارت منہدم، 6 افراد جاں بحق

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 07, 2026 IST

دہلی ستیہ نکیتن میں 50 سال پرانی عمارت منہدم، 6 افراد جاں بحق
جنوب مغربی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک 50 سال پرانی عمارت اچانک منہدم ہونے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حادثے میں اب تک 6 افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ 11 افراد کو ملبے سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ حادثے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑی تعداد میں امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ یہ عمارت دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب واقع تھی۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کی دوپہر تقریباً 1 بج کر 30 منٹ پر عمارت اس وقت منہدم ہوئی جب وہاں مرمت کا کام جاری تھا۔ اچانک عمارت کے گرنے سے وہاں موجود افراد ملبے تلے دب گئے، جس کے بعد فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
 
حادثے کی اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس، دہلی فائر سروس، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس یعنی این ڈی آر ایف اور دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سمیت متعدد ایجنسیاں موقع پر پہنچیں۔ امدادی اہلکار بھاری مشینری اور دیگر آلات کی مدد سے ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے پھنسے لوگوں کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس، ساؤتھ ویسٹ، امیت گوئل کے مطابق رات کے دوران ریسکیو ٹیم نے ملبے سے ایک اور شخص کو باہر نکالا، تاہم اسے بچایا نہیں جا سکا اور موقع پر ہی مردہ قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 6 ہوگئی۔
 
ریسکیو ٹیمیں ملبے کے مختلف حصوں کی احتیاط سے تلاشی لے رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں مزید افراد تو اندر نہیں پھنسے ہوئے۔ امدادی کارروائی کے دوران ملبے کو مرحلہ وار ہٹایا جا رہا ہے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ زندہ شخص تک پہنچنے کے لیے انتہائی احتیاط برتی جا رہی ہے۔حادثے کے بعد عمارت کے اچانک گرنے کی وجوہات پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ چونکہ عمارت تقریباً 50 سال پرانی بتائی جا رہی ہے اور وہاں مرمت کا کام جاری تھا، اس لیے تعمیراتی حالت اور مرمت کے دوران اختیار کیے گئے حفاظتی اقدامات کی جانچ اہم ہوگی۔
 
فی الحال سب سے زیادہ توجہ ریسکیو آپریشن پر مرکوز ہے۔ حکام کی جانب سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کے علاج اور متاثرہ خاندانوں تک مدد پہنچانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔